جمعہ , جولائی 17 2026

کولیسٹرول خاموش قاتل: معمولی تبدیلیاں جان بچا سکتی ہیں

بدلتے طرزِ زندگی، غیر متوازن غذا اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کے باعث کولیسٹرول کا مسئلہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ خون میں کولیسٹرول کی غیر معمولی مقدار دل، دماغ اور خون کی شریانوں کی کئی خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ اکثر افراد کو اس وقت تک اس کا علم نہیں ہوتا جب تک کوئی سنگین پیچیدگی سامنے نہ آ جائے۔

کولیسٹرول ایک چکنائی نما مادہ ہے جو انسانی جسم کے لیے ضروری ہے اور ہارمونز، وٹامن ڈی اور خلیوں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم جب خون میں “خراب” یا ایل ڈی ایل (LDL) کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے تو یہ شریانوں کی دیواروں پر جمنا شروع ہو جاتا ہے، جس سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور دل کا دورہ، فالج اور دیگر قلبی امراض کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دوسری جانب ایچ ڈی ایل (HDL) یا “اچھا کولیسٹرول” جسم سے اضافی چکنائی کو جگر تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے، جس سے شریانوں کو صاف رکھنے میں معاونت ملتی ہے۔

کن افراد کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے؟

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ درج ذیل عوامل کولیسٹرول بڑھنے کے امکانات میں اضافہ کرتے ہیں:

  • مرغن، تلی ہوئی اور فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال
  • ورزش اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی
  • تمباکو نوشی
  • موٹاپا
  • ذیابیطس اور بلند فشارِ خون
  • بڑھتی عمر
  • خاندانی طبی تاریخ

علامات کیوں ظاہر نہیں ہوتیں؟

ماہرین صحت کے مطابق بلند کولیسٹرول کو اکثر “خاموش قاتل” کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی عام طور پر کوئی واضح علامات نہیں ہوتیں۔ کئی افراد کو پہلی مرتبہ اس وقت علم ہوتا ہے جب انہیں دل کا دورہ، فالج یا شریانوں کی بندش جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

احتیاط کیسے کی جائے؟

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کر کے کولیسٹرول کو کافی حد تک قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات مفید ثابت ہو سکتے ہیں:

  • تازہ سبزیاں، پھل، دالیں اور ثابت اناج زیادہ استعمال کریں۔
  • سرخ گوشت، گھی، مکھن اور تلی ہوئی اشیاء کا استعمال محدود رکھیں۔
  • ہفتے میں کم از کم 150 منٹ تیز چہل قدمی یا دیگر جسمانی سرگرمی اختیار کریں۔
  • وزن کو متوازن رکھیں۔
  • سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز کریں۔
  • ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق وقتاً فوقتاً کولیسٹرول اور دیگر طبی ٹیسٹ کرائیں، خصوصاً اگر عمر 40 سال سے زیادہ ہو یا دل کی بیماریوں کی خاندانی تاریخ موجود ہو۔

بروقت تشخیص ہی بہترین بچاؤ

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کولیسٹرول کا بروقت ٹیسٹ، صحت مند خوراک، باقاعدہ ورزش اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات دل کی بیماریوں اور فالج کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی اپنانا نہ صرف کولیسٹرول بلکہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

نمرا مہرہ کا پروٹوکول سسٹم پر سوال

’’کسی کی جان سے بڑھ کر کوئی وی آئی پی پروٹوکول نہیں‘‘ گلوکارہ اور اداکارہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے