جمعہ , جولائی 17 2026

مہنگائی کا طوفان مزید شدت اختیار کر گیا

–ایک ہفتے میں افراطِ زر 1.40 فیصد بڑھ گیا

—خوراک اور ایندھن کی قیمتوں نے عوام کی کمر توڑ دی

ملک میں مہنگائی کا دباؤ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھنے لگا ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق 16 جولائی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے (SPI) میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 1.40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خوراک اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے ہفتہ وار مہنگائی کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر 22.79 فیصد، مرغی 14.66 فیصد اور ایل پی جی 12.46 فیصد مہنگی ہوگئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4.41 فیصد اور پیٹرول میں 4.40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ لہسن، انڈے، پیاز اور چائے سمیت دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء بھی مزید مہنگی ہو گئیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ملک کے 17 بڑے شہروں میں زیر نگرانی 51 بنیادی اشیائے ضروریہ میں سے 27 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ صرف چار اشیاء کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جو مجموعی مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔

سالانہ بنیادوں پر بھی مہنگائی کی صورتحال تشویشناک

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں حساس قیمتوں کے اشاریے میں 13.09 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو عام شہریوں کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی کرتا ہے۔

سالانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ مہنگی ہونے والی اشیاء میں:

  • ٹماٹر: 210.18 فیصد اضافہ
  • پیاز: 75.93 فیصد اضافہ
  • گندم کا آٹا: 71.81 فیصد اضافہ
  • بجلی کے نرخ: 49.14 فیصد اضافہ
  • ایل پی جی: 42.50 فیصد اضافہ

یہ مسلسل اضافہ خصوصاً کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کے لیے شدید مالی دباؤ کا باعث بن رہا ہے، کیونکہ ان کی آمدنی کے مقابلے میں ضروری اشیائے خورونوش، توانائی اور یوٹیلٹی اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق کم ترین آمدنی والے طبقے (Q1) کے لیے سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 13.63 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ غریب طبقہ برداشت کر رہا ہے۔

اگرچہ اس دوران کیلے، مونگ کی دال، چینی اور مسور کی دال کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم یہ کمی آٹا، سبزیوں، ایندھن، بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے سامنے بے معنی ثابت ہوئی۔

تازہ ترین اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں مہنگائی پر قابو پانے کی کوششیں تاحال مؤثر ثابت نہیں ہو سکیں۔ خوراک، ایندھن اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف عوام کی قوتِ خرید کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ آئندہ ہفتوں میں بھی گھریلو بجٹ پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

نمرا مہرہ کا پروٹوکول سسٹم پر سوال

’’کسی کی جان سے بڑھ کر کوئی وی آئی پی پروٹوکول نہیں‘‘ گلوکارہ اور اداکارہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے