جمعہ , جولائی 10 2026

ہفتہ وار مہنگائی میں معمولی کمی

سالانہ افراطِ زر 11.94 فیصد تک پہنچ گئی

پاکستان میں مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے، جہاں ہفتہ وار بنیاد پر قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم سالانہ بنیاد پر افراطِ زر بدستور دوہرے ہندسوں میں موجود ہے۔ خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عوام خصوصاً کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (PBS) کی جانب سے 9 جولائی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کی حساس قیمتوں کے اشاریے (SPI) کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر مہنگائی میں 0.45 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں مہنگائی کی مجموعی شرح 11.94 فیصد رہی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران روزمرہ استعمال کی کئی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ٹماٹر کی قیمت میں 129.01 فیصد، پیاز میں 76.34 فیصد اور گندم کے آٹے میں 71.22 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے عام شہریوں کے گھریلو اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

یوٹیلٹی بلوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بجلی کے نرخ گزشتہ سال کے مقابلے میں 49.14 فیصد بڑھ گئے، جبکہ گیس کے نرخوں میں 29.85 فیصد اضافہ ہوا۔ ایل پی جی کی قیمت میں بھی 25.51 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے گھریلو صارفین اور چھوٹے کاروبار مزید متاثر ہوئے۔

گوشت کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ جاری رہا۔ مٹن 16.36 فیصد جبکہ گائے کے گوشت کی قیمت 13.56 فیصد بڑھ گئی، جس کے باعث خوراک پر اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق سب سے زیادہ متاثر کم آمدنی والے خاندان ہوئے ہیں۔ سب سے کم آمدنی والے طبقے کے لیے سالانہ مہنگائی کی شرح 12.53 فیصد رہی، جو قومی اوسط سے بھی زیادہ ہے۔

ہفتہ وار بنیاد پر بعض اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ ٹماٹر کی قیمت 23.30 فیصد، ایل پی جی 15.12 فیصد جبکہ بعض دالوں کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی، تاہم یہ ریلیف محدود ثابت ہوا۔

اس کے برعکس آلو کی قیمت 3.94 فیصد، مرغی 3.70 فیصد، پیاز 3.54 فیصد اور گندم کے آٹے کی قیمت 1.61 فیصد بڑھ گئی، جس سے مجموعی مہنگائی کا دباؤ برقرار رہا۔

رپورٹ کے مطابق 51 بنیادی اشیائے ضروریہ میں سے 22 اشیاء مہنگی ہوئیں، 8 اشیاء سستی ہوئیں جبکہ باقی اشیاء کی قیمتوں میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض اشیاء کی قیمتوں میں موسمی بنیادوں پر وقتی کمی آتی رہتی ہے، لیکن خوراک اور توانائی کی بلند قیمتیں مجموعی افراطِ زر کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی عوام کی قوتِ خرید کو متاثر کر رہی ہے اور معاشی بحالی کی رفتار بھی سست پڑ سکتی ہے۔

ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ضروری اشیائے خورونوش کی فراہمی بہتر بنانے، سپلائی چین کو مؤثر بنانے اور قیمتوں پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

فرانس نے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں جگہ بنا لی

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل میں فرانس نے مراکش کو 0-2 سے شکست …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے