جمعرات , جولائی 9 2026

میٹا کو 1.4 ٹریلین ڈالر جرمانے کا سامنا

فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا کو امریکہ کی چار ریاستوں کی جانب سے دائر مقدمے میں 1.4 ٹریلین ڈالر تک کے ممکنہ جرمانے کا سامنا ہے۔ ریاستوں کا الزام ہے کہ کمپنی نے جان بوجھ کر اپنے پلیٹ فارمز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا تاکہ بچے اور نوجوان زیادہ سے زیادہ وقت آن لائن گزاریں اور ان کی توجہ مسلسل سوشل میڈیا پر مرکوز رہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی نے میٹا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے فیس بک اور انسٹاگرام کو نوجوان صارفین کے لیے جان بوجھ کر “نشہ آور” بنایا اور ان پلیٹ فارمز کی حفاظت کے حوالے سے عوام کو گمراہ کیا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق متعلقہ ریاستوں نے متاثرہ کم عمر صارفین کی تعداد اور ریاستی قوانین کے تحت قابلِ اطلاق جرمانوں کی بنیاد پر مجموعی ہرجانے کا تخمینہ تقریباً 1.4 ٹریلین ڈالر لگایا ہے، جو میٹا کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے تقریباً برابر ہے۔

میٹا نے اس تخمینے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اتنی بڑی سزا کی امریکی صارف تحفظ قوانین کی تاریخ میں کوئی مثال موجود نہیں۔ کمپنی کے وکلا نے جرمانے کے تخمینے کو “غیر حقیقی اور قانونی بنیاد سے محروم” قرار دیتے ہوئے مقدمے کا بھرپور دفاع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل کے دفتر کا کہنا ہے کہ مقدمے میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ میٹا نے بچوں کی ذہنی صحت اور تحفظ پر منافع کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں ایک پوری نسل ذہنی مسائل سے متاثر ہو رہی ہے۔

میٹا کے خلاف مزید 29 امریکی ریاستوں میں بھی مقدمات زیر سماعت ہیں، جن میں کمپنی پر بچوں کا ذاتی ڈیٹا والدین کی اجازت کے بغیر جمع کرنے اور بچوں کی آن لائن پرائیویسی کے قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی عدالت ان مقدمات کی سماعت رواں سال اگست میں کرے گی، جبکہ مزید 14 ریاستوں کی جانب سے دائر ایک علیحدہ مقدمے کی سماعت فروری 2027 میں متوقع ہے۔

واضح رہے کہ میٹا سمیت ٹک ٹاک، یوٹیوب اور اسنیپ چیٹ جیسی بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف بھی ہزاروں مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان پلیٹ فارمز کے الگورتھمز اور فیچرز کو جان بوجھ کر اس انداز میں تیار کیا گیا تاکہ بچے اور نوجوان ان کے عادی بن جائیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ارجنٹینا، میسی اور فیفا پر جانبداری کے الزامات

ورلڈ کپ میں نیا تنازع کھڑا ہوگیا فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ارجنٹینا کی مصر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے