بدھ , جولائی 8 2026

آبنائے ہرمز حملے: تیل کی قیمتوں میں اضافہ

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر فوجی کشیدگی میں اضافے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب تجارتی جہازوں پر حملوں نے عالمی توانائی کی منڈی کو نئی بے یقینی سے دوچار کر دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب تین بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں قطر کا ایل این جی بردار جہاز، سعودی عرب کا آئل ٹینکر اور لائبیریا کے پرچم تلے چلنے والا ایک آئل ٹینکر شامل تھا۔ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ قطری ایل این جی بردار جہاز کو متعدد انتباہات نظر انداز کرنے کے بعد نشانہ بنایا گیا۔

اس واقعے کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف جوابی فوجی کارروائی کرتے ہوئے فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ساحلی ریڈار اسٹیشنز، اینٹی شپ میزائل تنصیبات اور آبنائے ہرمز کے اطراف موجود پاسداران انقلاب کی 60 سے زائد تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔

ایران نے امریکی کارروائی کے جواب میں بحرین اور کویت میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے، جس کے بعد خطے میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ طے پانے والی جنگ بندی اب انتہائی غیر مستحکم دکھائی دے رہی ہے۔

کشیدگی میں اضافے کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 76.58 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 72.74 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل کی ترسیل بدستور خطرات سے دوچار ہے اور موجودہ صورتحال نے اس تاثر کو کمزور کر دیا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی فراہمی ضرورت سے زیادہ ہو جائے گی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یا تو تہران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرے یا پھر امریکہ “کام مکمل کرے گا”۔ اس کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ جب تک دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہے گا، کسی حتمی امن معاہدے کے لیے مذاکرات شروع نہیں کیے جائیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف عالمی توانائی کی منڈی بلکہ عالمی تجارت اور معیشت پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ارجنٹینا نےورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے راؤنڈ آف 16 میں ارجنٹینا نے مصر کو سنسنی خیز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے