Related Articles

آئی ایم ایف کی شرط پوری نہ ہو سکی
حکومت 3.44 کھرب روپے سے زائد کے گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کے باوجود یکم جولائی 2026 سے نافذ ہونے والے نئے گیس ٹیرف کا نوٹیفکیشن جاری کرنے میں ناکام رہی، جس سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی ایک اہم ساختی شرط (Structural Benchmark) کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کے تحت پاکستان نے یکم جولائی 2026 اور 15 فروری 2027 کو ششماہی بنیادوں پر گیس ٹیرف میں ردوبدل کا پابند ہونے کا وعدہ کیا تھا تاکہ توانائی کی قیمتوں کو لاگت کی وصولی کے مطابق رکھا جا سکے اور گردشی قرضے میں مزید اضافہ نہ ہو۔
سرکاری حکام کے مطابق نوٹیفکیشن میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے قائم مقام چیئرمین نبیل احمد اعوان کی تقرری سے متعلق قانونی پیچیدگیاں تھیں۔ ان کی بطور قائم مقام چیئرمین تقرری کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جبکہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے بھی گیس نرخوں کے تعین کے عمل کو متاثر کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اوگرا نے بعد ازاں گیس کمپنیوں کی سالانہ ریونیو ضروریات، عوامی سماعتوں اور دیگر قانونی تقاضے مکمل کر لیے ہیں اور نئی ٹیرف ڈیٹرمنیشن تقریباً تیار ہے۔
ذرائع کے مطابق اوگرا کے قائم مقام چیئرمین نے گیس کی ترسیل میں ہونے والے نقصانات، یعنی ان اکاؤنٹڈ فار گیس (UFG)، میں کمی کے لیے روایتی مجموعی اہداف کے بجائے ہر کسٹڈی ٹرانسفر اسٹیشن (CTS) کی سطح پر واضح اور دستاویزی حکمت عملی طلب کی ہے۔ اسی مقصد کے لیے سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیوں سے تفصیلی منصوبہ مانگا گیا، جس کے باعث عمل میں مزید تاخیر ہوئی۔
حکام کے مطابق گیس ٹیرف کی منظوری اب کسی بھی وقت جاری کی جا سکتی ہے، جبکہ حکومت اوگرا کی منظوری کے بعد صارفین کے لیے نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن معمول کے 40 روز انتظار کے بغیر جلد جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ایک سرکاری عہدیدار نے کہا کہ یہ تکنیکی نوعیت کی خلاف ورزی ہے جسے بعد میں ریونیو ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے، تاہم حکومت توانائی کے شعبے میں مالیاتی استحکام برقرار رکھنے کے لیے آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد جاری رکھے گی۔
آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت گیس سیکٹر میں گردشی قرضے اور یو ایف جی نقصانات کم کرنے کے لیے نگرانی کے نظام، ڈیٹا شیئرنگ، انفراسٹرکچر کی بہتری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کو بھی مضبوط بنا رہی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 کے اختتام تک گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ 3.442 کھرب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ حکومت نے اس کی نگرانی کے لیے سہ ماہی رپورٹنگ سسٹم متعارف کرا دیا ہے جبکہ موجودہ مالی سال کے دوران گیس سیکٹر کے لیے نیا سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان بھی منظوری کے بعد نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔
UrduLead UrduLead