
گرمیوں کے موسم میں آشوبِ چشم (کنجنکٹیوائٹس) کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر ماہرینِ صحت نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ اس متعدی بیماری سے محفوظ رہا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق گرمی، گردوغبار، آلودہ پانی، تیراکی کے دوران غیر معیاری سوئمنگ پولز کا استعمال اور صفائی کا فقدان آشوبِ چشم کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات ہیں۔ بیماری وائرس، بیکٹیریا یا الرجی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے اور ایک شخص سے دوسرے شخص میں آسانی سے منتقل ہو جاتی ہے۔
ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ہاتھ صابن سے بار بار دھوئیں، غیر ضروری طور پر آنکھوں کو ہاتھ لگانے یا ملنے سے گریز کریں اور تولیہ، رومال، تکیہ، آئی میک اپ یا کانٹیکٹ لینز کسی دوسرے شخص کے ساتھ ہرگز مشترکہ استعمال نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ دھوپ اور گرد سے بچاؤ کے لیے باہر نکلتے وقت چشمہ استعمال کیا جائے، جبکہ تیراکی کے دوران حفاظتی سوئمنگ گوگلز پہننے کو معمول بنایا جائے۔ پسینہ آنے کے بعد چہرہ اور پلکوں کی صفائی بھی ضروری ہے تاکہ جراثیم آنکھوں تک نہ پہنچ سکیں۔
ماہرین کے مطابق آشوبِ چشم کی عام علامات میں آنکھوں کا سرخ ہونا، پانی آنا، خارش یا جلن، پلکوں کا سوج جانا اور آنکھ سے چپچپا مواد خارج ہونا شامل ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آنکھ میں شدید درد، دھندلا نظر آنا، روشنی سے شدید حساسیت یا زیادہ مقدار میں پیپ خارج ہونے جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ماہر امراض چشم سے رجوع کیا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرل آشوبِ چشم عموماً چند روز میں خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے، تاہم بیکٹیریا سے ہونے والی انفیکشن میں ڈاکٹر کے مشورے سے اینٹی بائیوٹک آئی ڈراپس استعمال کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ خود سے اسٹیرائیڈ آئی ڈراپس استعمال کرنے سے گریز کریں کیونکہ یہ آنکھوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
UrduLead UrduLead