منگل , جون 30 2026

گرمی میں “چاٹی والی لسی” کیوں ہے صحت کا خزانہ؟

پاکستان میں شدید گرمی کے موسم میں ٹھنڈے مشروبات کا استعمال بڑھ جاتا ہے، تاہم ماہرین غذائیت کے مطابق روایتی “چاٹی والی لسی” نہ صرف جسم کو فوری ٹھنڈک پہنچاتی ہے بلکہ پانی کی کمی، معدے کے مسائل اور گرمی کی شدت سے بچاؤ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

دیہی اور شہری علاقوں میں چاٹی والی لسی کو گرمیوں کا روایتی اور قدرتی مشروب سمجھا جاتا ہے۔ یہ دہی، پانی اور ہلکے مصالحوں سے تیار کی جاتی ہے، جبکہ بعض علاقوں میں اسے مکھن نکالنے کے بعد باقی رہ جانے والی لسی بھی کہا جاتا ہے، جو کم چکنائی اور زیادہ غذائیت کی حامل ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق لسی میں موجود قدرتی پروبائیوٹکس معدے میں مفید بیکٹیریا کی افزائش میں مدد دیتے ہیں، جس سے نظامِ ہاضمہ بہتر رہتا ہے اور بدہضمی، تیزابیت اور قبض جیسے مسائل میں کمی آتی ہے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں پسینے کے ذریعے جسم سے پانی اور نمکیات خارج ہوتے ہیں، جبکہ چاٹی والی لسی جسم میں پانی کی کمی پوری کرنے، الیکٹرولائٹس کا توازن برقرار رکھنے اور ڈی ہائیڈریشن سے بچانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

لسی میں کیلشیم، پروٹین، پوٹاشیم اور وٹامن بی بھی موجود ہوتے ہیں، جو ہڈیوں، پٹھوں اور اعصابی نظام کی صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ جسمانی تھکن کم کرنے اور توانائی بحال رکھنے میں بھی مددگار ہے۔

ماہرین غذائیت مشورہ دیتے ہیں کہ لسی میں زیادہ چینی شامل کرنے سے گریز کیا جائے، جبکہ ذائقے اور صحت کے لیے اس میں بھنا ہوا زیرہ، پودینہ یا تھوڑا سا کالا نمک شامل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بازار میں دستیاب مصنوعی ذائقوں اور زیادہ شکر والی لسی کے بجائے گھر میں تیار کی گئی تازہ لسی صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق شدید گرمی کے موسم میں روزانہ ایک سے دو گلاس تازہ چاٹی والی لسی پینا جسم کو ٹھنڈا رکھنے، ہاضمہ بہتر بنانے اور مجموعی صحت برقرار رکھنے کا قدرتی اور مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مراکش پیراگوئے پنالٹی شوٹ آؤٹ پر پری کوارٹر فائنل

برازیل بھی کامیاب، 4 جولائی کو کینیڈا اور مراکش کا ٹاکرا فیفا ورلڈ کپ 2026 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے