
19 اگست کو روایتی حریف بھارت سے ٹکراؤ
ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 15 اگست سے ہو رہا ہے، جس میں پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم گروپ ڈی میں انگلینڈ، بھارت اور ویلز کے ساتھ شامل ہے۔
آٹھ سال بعد عالمی کپ میں واپسی کرنے والی گرین شرٹس اپنے مہم کا آغاز روایتی حریف انگلینڈ کے خلاف کریں گی، جس کے بعد 17 اگست کو ویلز اور 19 اگست کو بھارت کے خلاف فیصلہ کن مقابلہ ہوگا۔

شیڈول اور مقابلوں کی تفصیل
ذرائع کے مطابق پاکستان کے گروپ مرحلے کے تینوں میچز درج ذیل ہیں: 15 اگست کو پاکستان بمقابلہ انگلینڈ، 17 اگست کو پاکستان بمقابلہ ویلز، اور 19 اگست کو پاکستان بمقابلہ بھارت، جو ویگنر ہاکی اسٹیڈیم ایمسٹل ویں میں کھیلا جائے گا۔ ٹورنامنٹ کا نیا فارمیٹ اس بار کوارٹر فائنل کے بغیر ہوگا، جس میں 16 ٹیمیں چار پولز میں تقسیم کی گئی ہیں۔ پہلا مرحلہ 15 سے 20 اگست تک جاری رہے گا، جس کے بعد ٹاپ ٹیمیں کراس اوور مرحلے میں پہنچیں گی، اور سیمی فائنل 27 اگست سے شروع ہوں گے۔ عالمی درجہ بندی میں انگلینڈ چوتھے، بھارت آٹھویں، پاکستان بارہویں جبکہ ویلز سولہویں نمبر پر ہے۔
آٹھ سال بعد عالمی کپ میں واپسی
پاکستان، جو چار بار کا عالمی چیمپیئن ہے، 2023 کے ایڈیشن کے لیے کوالیفائی نہ کر سکا تھا۔ رواں سال مارچ میں مصر کے شہر اسماعیلیہ میں ہونے والے کوالیفائرز کے سیمی فائنل میں پاکستان نے جاپان کے خلاف 3-1 سے پیچھے رہنے کے باوجود آخری آٹھ منٹ میں تین گول کر کے شاندار واپسی کی اور 4-3 سے فتح حاصل کی، جس سے 14ویں عالمی کپ میں رسائی یقینی بنی۔ گول کیپر علی رضا کی پنالٹی اسٹروک بچانے کی کارکردگی بھی اس فتح میں کلیدی حیثیت رکھتی تھی۔ ابوبکر محمود کو حال ہی میں قومی کپتان مقرر کیا گیا، جبکہ ٹیم کی کوچنگ روئیلنٹ اولٹمانز کے سپرد ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے 20 رکنی اسکواڈ کا اعلان کرتے ہوئے کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کے اکاؤنٹس میں 2 کروڑ روپے کے غیر ملکی الاؤنسز بھی منتقل کیے، تاکہ کھلاڑی مالی فکر کے بغیر کارکردگی پر توجہ دے سکیں۔ ٹیم گزشتہ اتوار لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوئی، جہاں نیدرلینڈز میں پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
سوشل میڈیا پر جوش و خروش
پاکستان اور بھارت کے ایک ہی گروپ میں ہونے کی خبر سامنے آتے ہی ہاکی مداحوں میں زبردست جوش دیکھنے میں آیا، کیونکہ دونوں ممالک کا مقابلہ ہمیشہ سے عالمی ہاکی کے مقبول ترین مقابلوں میں شمار ہوتا ہے۔ ٹیم کی روانگی کے موقع پر شائقین نے سوشل میڈیا پر جذباتی پیغامات کا سلسلہ شروع کیا، جن میں قومی پرچم اور ہاکی اسٹک کی علامتوں کے ساتھ کھلاڑیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔ صارفین نے یاد دلایا کہ یہ عالمی کپ میں پاکستان اور بھارت کا 16 سال بعد پہلا مقابلہ ہوگا، اس سے قبل دونوں ٹیمیں 2010 کے ایڈیشن میں نئی دہلی میں مدمقابل آئی تھیں جہاں میزبان بھارت نے 4-1 سے فتح حاصل کی تھی۔ ہاکی کی تاریخ میں دونوں ممالک اب تک عالمی کپ میں پانچ بار مدمقابل آ چکے ہیں، جن میں بھارت نے تین جبکہ پاکستان نے دو مقابلے جیتے ہیں۔ مداحوں کی جانب سے 19 اگست کے میچ کو ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ متوقع مقابلوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
پس منظر
پاکستان ہاکی میں چار عالمی اعزازات (1971، 1978، 1982، 1994) کے ساتھ سب سے کامیاب ٹیم رہی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں کارکردگی میں کمی دیکھی گئی، جس میں 2025-26 کی ایف آئی ایچ پرو لیگ میں تمام 16 میچز میں شکست کے بعد ٹیم کو نیشنز کپ میں تنزلی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تناظر میں شائقین ورلڈ کپ کو گرین شرٹس کے احیاء کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ٹورنامنٹ 30 اگست تک جاری رہے گا اور اس کی میزبانی بیلجیم اور نیدرلینڈز مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔
UrduLead UrduLead