
پاکستان کے ہاکی شائقین کے لیے اس ہفتے ایک نئی خوشخبری سامنے آئی جب قومی مردوں کی ٹیم کی ہاکی ورلڈ کپ 2026 کے لیے سرکاری کِٹ “STRYKE ایڈیشن” کے نام سے متعارف کرائی گئی۔ اس کِٹ کی لانچنگ کو “کھیل کے لیے تیار، قوم کے لیے وقف” کے نعرے کے ساتھ پیش کیا گیا، اور اسے گرین شرٹس کے لیے ایک نیا، جدید انداز قرار دیا گیا جو رفتار، اعتماد اور کارکردگی کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔
اعلان کے مطابق نئی کِٹ میں پریمیم پرفارمنس فیبرک، ہلکا پھلکا اور ہوادار ڈیزائن، جلد خشک ہونے والا کپڑا، اور پاکستانی ثقافتی رنگوں سے متاثر ڈیزائن شامل ہیں، اور اسے “ون ٹیم، ون نیشن، ون ڈریم” کے موضوع کے تحت پیش کیا گیا۔ کِٹ کی رونمائی کو اس وسیع تر کوشش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد ایک طویل عرصے بعد ورلڈ کپ میں واپس آنے والی ٹیم کی بصری شناخت کو جدید بنانا ہے۔
ورلڈ کپ میں ایک تاریخی واپسی
یہ کِٹ لانچ پاکستان ہاکی کے لیے ایک اہم موقع پر سامنے آئی ہے۔ چار مرتبہ کے عالمی چیمپیئن اور تین اولمپک طلائی تمغے جیتنے والی یہ ٹیم اب نیدرلینڈز اور بیلجیم کی مشترکہ میزبانی میں 15 سے 30 اگست تک ہونے والے ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے تیار ہے — 2018 کے بعد ٹورنامنٹ میں ان کی پہلی شرکت، جبکہ 2023 کے ایڈیشن (بھارت میں منعقدہ) کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکے تھے۔
پاکستان نے مصر کے شہر اسماعیلیہ میں ہونے والے کوالیفائرز میں ڈرامائی انداز میں اپنی جگہ پکی کی، جہاں چین، ملائیشیا اور آسٹریا کے خلاف کامیابیوں کے بعد ٹیم سیمی فائنل میں جاپان کے مدمقابل آئی۔ 3-1 سے پیچھے ہونے کے باوجود گرین شرٹس نے آخری آٹھ منٹ میں تین گول کرکے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا، تاہم فائنل میں انگلینڈ کے ہاتھوں 4-1 سے شکست کھائی۔
ٹورنامنٹ سے قبل پاکستان ہاکی فیڈریشن نے قیادت میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے 14 سال سے کپتانی کرنے والے عماد بٹ کی جگہ 28 سالہ فارورڈ ابوبکر محمود کو نیا کپتان مقرر کیا۔ فیڈریشن کا کہنا تھا کہ نئے کپتان سینئر کھلاڑیوں کے تجربے اور نوجوان ٹیلنٹ کی توانائی کو ملا کر ٹیم کو آگے لے جائیں گے۔ ابوبکر، جنہوں نے 2017 میں سینئر ٹیم میں ڈیبیو کیا اور 2024 میں ایشین چیمپیئنز ٹرافی میں بھارت کے خلاف میچ کے دوران گھٹنے کی سنگین انجری سے صحت یاب ہوئے، کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ تک کا سفر “قربانی، نظم و ضبط اور استقامت” کا متقاضی رہا، اور ٹیم میدان میں سب کچھ جھونک دینے کے لیے تیار ہے۔
پی ایچ ایف کی جانب سے اعلان کردہ 20 رکنی ورلڈ کپ اسکواڈ کی قیادت ابوبکر کریں گے، جبکہ وقار اور علی رضا کو گول کیپرز نامزد کیا گیا ہے۔ اسکواڈ میں تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ سفیان خان اور افراز جیسے نوجوان کھلاڑی بھی شامل ہیں۔ نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے باب یوہان ویلڈہوف ہیڈ کوچ کے فرائض سرانجام دیں گے، جبکہ کرسٹوفر جان بوون اور عدنان ذاکر معاون کوچز کے طور پر ٹیم کا حصہ ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
کِٹ کی رونمائی جلد ہی سوشل میڈیا پر زیر بحث آ گئی، شائقین نے سبز و سفید ڈیزائن کو قومی جذبے کے ساتھ بڑے پیمانے پر شیئر کیا، جو مہم کے اپنے ہیش ٹیگز کے ذریعے ٹیم کی ورلڈ کپ میں واپسی کا جشن منا رہے تھے۔ یہ رونمائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستانی شائقین قومی ٹیم کی جانب سے اچھی خبر کے خاص طور پر منتظر تھے: مردوں کی ٹیم کو 2025-26 کے ایف آئی ایچ پرو لیگ سیزن میں شدید ناکامی کا سامنا رہا، جہاں نو ٹیموں میں سب سے نچلے نمبر پر رہتے ہوئے تمام 16 میچز ہارے اور 79 گول کھا کر صرف 22 گول کر سکے — یہی ناکام کارکردگی کپتانی میں تبدیلی کا براہِ راست سبب بنی۔ آن لائن حمایتیوں نے نئی کِٹ اور قیادت کو ایک نئے آغاز کے طور پر دیکھا، تاہم کچھ شائقین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ فیڈریشن نئے شاندار بصری تشخص کے ساتھ ساتھ پرو لیگ کی تنزلی کے بعد نتائج میں بھی حقیقی بہتری لائے۔
ماہرین اور فیڈریشن کا مؤقف
ہاکی تجزیہ کاروں اور سابق انٹرنیشنل کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا کوالیفائنگ سفر — بشمول جاپان کے خلاف واپسی کرتے ہوئے حاصل کی گئی کامیابی — اس بات کا ثبوت ہے کہ پرو لیگ کی خراب کارکردگی کے باوجود یہ اسکواڈ پاکستانی ہاکی کی روایتی جولانی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پی ایچ ایف کی پروفیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی، جس نے ابوبکر کی تقرری کی سفارش کی، میں سابق کپتان اصلاح الدین صدیقی اور حسن سردار شامل ہیں، اور ان کی حمایت کو نوجوان قیادت پر ادارہ جاتی اعتماد کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسکواڈ سے متعلق تبصروں میں سینئر مڈفیلڈر عماد بٹ کا خصوصی ذکر کیا جا رہا ہے، جو کپتانی سے ہٹائے جانے کے باوجود اسکواڈ کا حصہ ہیں اور 100 سے زائد بین الاقوامی کیپس کے تجربے کے حامل ہیں۔
ٹورنامنٹ کا آغاز 15 اگست کو ہونے جا رہا ہے، اور پاکستان کی نظریں ہاکی کے سب سے بڑے میدان میں دہائیوں پرانے ٹرافی کے خشکے کے خاتمے پر ہیں۔ ایسے میں نئی STRYKE کِٹ اس مہم کی ایک نمایاں علامت بن چکی ہے جس سے فیڈریشن کو امید ہے کہ دو مشکل برسوں کے بعد ٹیم کی ساکھ بحال ہو سکے گی۔
UrduLead UrduLead