جمعرات , اگست 13 2026

مَیں واپس آؤں گا — تقسیم کے انسانی المیے پر فلم

ایشَر سنگھ کا کردار ماضی کی محبت اور اپنے آبائی شہر سرگودھا واپسی کی خواہش سے جڑا

امتیاز علی کی فلم “Main Vaapas Aaunga” نے تقسیمِ ہند کے انسانی المیے کو ایک محبت کی کہانی کے ذریعے پردہ اسکرین پر پیش کیا ہے، اور اجراء کے دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اس کا موضوع اور اداکاری تاحال ناظرین اور ناقدین کے درمیان زیرِ بحث ہیں۔ فلم 12 جون 2026 کو سینما گھروں میں ریلیز ہوئی تھی، جس میں دلجیت دوسانجھ، نصیرالدین شاہ، ویدانگ رائنا اور شرواری مرکزی کرداروں میں شامل ہیں۔

فلم کی کہانی تقسیم کے دوران بچھڑنے والے دو کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔ نصیرالدین شاہ 95 سالہ ایشَر سنگھ کا کردار ادا کرتے ہیں، جن کا کردار ماضی کی محبت اور اپنے آبائی شہر سرگودھا واپسی کی خواہش سے جڑا ہے۔ دلجیت دوسانجھ فلم میں ان کے پوتے نرویر کا کردار نبھاتے ہیں، جو اپنے دادا کی آخری خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ماضی اور حال کے درمیان سفر کرتے ہوئے فلم بچھڑنے کا دکھ نمایاں کرتی ہے، جبکہ ویدانگ رائنا اور شرواری ماضی کی محبت کی کہانی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

فلم تقسیم کو محض ایک سیاسی واقعے کے طور پر نہیں دکھاتی، بلکہ ہجرت، شناخت، گھر اور بچھڑے رشتوں کے جذبات کو مرکزی حیثیت دیتی ہے۔ سرگودھا شہر بھی کہانی کا ایک اہم علامتی مرکز بن کر ابھرا ہے، جو مرکزی کردار کے اس گھر اور ماضی کی نمائندگی کرتا ہے جس سے وہ برسوں پہلے جدا ہوا تھا۔ فلم کی موسیقی اے آر رحمان نے ترتیب دی ہے جبکہ گیتوں کے بول ارشاد کامل نے لکھے ہیں۔

ابتدائی طور پر فلم کو محدود تھیٹر ریلیز ملی تھی، تاہم ناظرین کی زبانی تشہیر نے اس کی مقبولیت میں اضافہ کیا۔ اکنامک ٹائمز کے مطابق فلم نے تھیٹرز میں 50 دن مکمل کیے اور بعد میں کامیاب فلموں میں شمار ہوئی۔ اب یہ فلم او ٹی ٹی پلیٹ فارم نیٹ فلکس پر بھی دستیاب ہے، جس کے بعد آن لائن مباحث میں دوبارہ تیزی آ گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر تقسیم شدہ رائے

فلم کے حوالے سے سوشل میڈیا صارفین کی رائے یکساں نہیں۔ ریلیز کے پہلے دن ہی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ردعمل کی بھرمار دیکھی گئی، جہاں بیشتر صارفین نے اسے امتیاز علی کے مخصوص انداز کی فلم قرار دیا — کچھ کے نزدیک جذباتی طور پر انتہائی گہری، جبکہ دیگر کے خیال میں تقریباً تین گھنٹے کے دورانیے کے باعث سست رفتار۔ فلم انڈسٹری سے وابستہ کئی شخصیات نے بھی ایکس پر فلم کی کھلے دل سے تعریف کی۔

تاہم ہر رائے مثبت نہیں رہی۔ ناظرین کے ایک حصے نے موجودہ دور کی کہانی، خاص طور پر نرویر کے ٹریک، کو ماضی کی محبت کی کہانی کے مقابلے میں کمزور قرار دیا۔ اس سے بڑھ کر، کچھ مؤرخین اور سوشل میڈیا صارفین نے 1947 کے فسادات کی عکاسی پر بھی سوالات اٹھائے، اور یہ استفسار کیا کہ کیا تقسیم کے دوران ہونے والے تشدد کو محض ایک “زنجیر کے ردعمل” کے طور پر پیش کرنا اس کی تاریخی اہمیت کو کم تر ظاہر نہیں کرتا۔ ناقدین کے مطابق یہی وہ پہلو ہے جس نے فلم پر بحث کو محض تفریحی جائزوں سے آگے بڑھا کر ایک تاریخی و سماجی مکالمے میں تبدیل کر دیا ہے۔

ناقدین کی رائے

فلمی ناقدین کی اکثریت نے نصیرالدین شاہ کی اداکاری کو فلم کا سب سے مضبوط پہلو قرار دیا ہے۔ ایک تنقیدی جائزے کے مطابق یہ ان کے کیریئر کے بہترین کاموں میں شمار ہوتی ہے، اور ان کا کردار ناظرین کو آنسو بہانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ دلجیت دوسانجھ کی اداکاری کو بھی سراہا گیا، تاہم بعض جائزوں میں ان کے کردار کو، خاص طور پر بنیتا سندھو کے ساتھ ان کے ٹریک کو، فلم کا نسبتاً کمزور پہلو قرار دیا گیا۔ شرواری کی کارکردگی کو محدود اسکرین ٹائم کے باوجود مؤثر قرار دیا گیا۔

فلم ناقد بردواج رنگن کے پلیٹ فارم پر شائع ہونے والے ایک جائزے میں فلم کو چار ستارے دیے گئے اور اسے بصری اعتبار سے حالیہ ہندی سنیما میں نمایاں قرار دیا گیا، جبکہ اے آر رحمان کی موسیقی اور بیک گراؤنڈ اسکور کو فلم کا ایک اور کردار قرار دیا گیا۔ ایک اور تفصیلی جائزے میں فلم کو تقسیم، یادداشت اور نقصان کے موضوعات کو سنیمائی شاعری میں ڈھالنے والا قرار دیا گیا، اور امتیاز علی کے محبت اور تنہائی کے روایتی موضوعات کو ایک وسیع تر تاریخی کینوس پر لے جانے کی کوشش کو سراہا گیا۔ مجموعی طور پر ناقدین کا اتفاق ہے کہ فلم جذباتی طور پر اثر انگیز ہے، اگرچہ اس کی طوالت اور رفتار پر رائے منقسم ہے۔

اجتماعی طور پر دیکھا جائے تو تقسیمِ ہند نے لاکھوں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کیا تھا، اور اس سانحے کی یادیں کئی خاندانوں میں نسلوں تک منتقل ہوتی رہیں۔ “Main Vaapas Aaunga” اسی اجتماعی یاد کو محبت، انتظار اور واپسی کے استعارے کے ذریعے دوبارہ سامنے لاتی ہے، اور جنوبی ایشیائی سینما کی اس روایت کو آگے بڑھاتی ہے جس میں ہجرت اور بچھڑنے کی کہانیاں مسلسل ناظرین کو متاثر کرتی رہی ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ڈیزل مہنگا، پٹرول سستا — عوام کے لیے جھٹکا

ٹرانسپورٹرز مزید کرایوں میں اضافے کی راہ پر وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے