
کمشنر اسلام آباد نے گلبرگ گرینز میں واقع اسپارکو پلازہ کو سب جیل یا لاک اپ قرار
اسلام آباد کے گلبرگ گرینز سے 400 سے زائد غیرملکی گرفتار ہوئے ہیں، جن پر غیرقانونی کاروباری سرگرمیوں اور کال سینٹرز چلانے کے الزامات ہیں۔ ایف آئی اے نے کارروائی کے بعد قانونی کارروائی آگے بڑھا دی ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے گلبرگ گرینز ہاؤسنگ سوسائٹی میں کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد غیرملکی شہریوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور پاکستان میں وزٹ، سیاحتی یا کاروباری ویزوں پر موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار غیرملکی شہری مبینہ طور پر کال سینٹرز کا ایک بڑا نیٹ ورک چلا رہے تھے۔ ان سرگرمیوں کے لیے ان کے ویزوں کی اجازت اور قانونی حیثیت بھی تحقیقات کا حصہ بن گئی ہے۔
ایف آئی اے کے انسداد انسانی اسمگلنگ سیل نے گرفتار افراد کے خلاف فارن ایکٹ 1946 کے سیکشن 14 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ گرفتار افراد میں ویتنام، انڈونیشیا، ملائیشیا اور چین کے شہری شامل ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق حکام کو گلبرگ گرینز ہاؤسنگ سوسائٹی میں بڑی تعداد میں غیرملکی شہریوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ ابتدائی تحقیقات میں ان افراد کے غیرقانونی طور پر کاروباری سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا۔
حکام کے مطابق کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں غیرملکی شہری زیرحراست آئے۔ اتنی بڑی تعداد میں افراد کی گرفتاری کے بعد انہیں رکھنے کے لیے ایف آئی اے کو جگہ اور عملے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی صورتحال کے باعث ضلعی انتظامیہ سے خصوصی انتظامات کی درخواست کی گئی۔ چیف کمشنر اسلام آباد نے گلبرگ گرینز میں واقع اسپارکو پلازہ کو سب جیل یا لاک اپ قرار دے دیا ہے۔
جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اسپارکو پلازہ کو ضابطہ فوجداری 1860 کے سیکشن 541 اور پریزن ایکٹ 1894 سمیت متعلقہ قانونی اختیارات کے تحت سب جیل قرار دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد کی درخواست پر کیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے گرفتار کیے گئے افراد کو اسپارکو پلازہ میں زیرحراست رکھا جاسکے گا۔ سب جیل کی سکیورٹی اور وہاں موجود افراد کی ذمہ داری ایف آئی اے اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل پر عائد ہوگی۔
حکام نے ریکارڈ کی نگرانی کے لیے ایف آئی اے کے گریڈ 17 یا اس سے بلند افسر کی تعیناتی بھی لازم قرار دی ہے۔ چیف کمشنر کا حکم فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور آئندہ احکامات تک برقرار رہے گا۔
غیرقانونی کال سینٹرز سے متعلق تحقیقات پہلے بھی اسلام آباد میں سامنے آتی رہی ہیں۔ جولائی 2025 میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے اسلام آباد کے ایک غیرقانونی کال سینٹر پر چھاپہ مارا تھا، جہاں پانچ غیرملکی شہری گرفتار ہوئے تھے۔
اس کارروائی میں حکام نے بتایا تھا کہ کال سینٹر میں 60 سے زائد افراد کام کر رہے تھے۔ تحقیقات میں مبینہ آن لائن فراڈ، جعلی شناختوں اور مالی دھوکے کے شواہد سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
نومبر 2025 میں بھی ایف آئی اے نے غیرملکیوں کے زیرانتظام متعدد کال سینٹرز سے متعلق ایک الگ کیس درج کیا تھا۔ اس مقدمے میں راولپنڈی کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں 15 کال سینٹرز کے مبینہ غیرقانونی آپریشن کا ذکر کیا گیا تھا۔
موجودہ کارروائی میں ایف آئی اے غیرملکی شہریوں کے ویزوں، کاروباری سرگرمیوں اور کال سینٹرز کے آپریشنز کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے رہی ہے۔ تحقیقات میں سہولت کاری، مالی معاملات اور دیگر ممکنہ ملزمان کے کردار کا بھی تعین کیا جائے گا۔
400 سے زائد غیرملکیوں کی گرفتاری نے اسلام آباد میں غیرقانونی کاروباری سرگرمیوں کی نگرانی کا معاملہ نمایاں کردیا ہے۔ ایف آئی اے کی آئندہ کارروائی ویزا قوانین، غیرملکیوں کی رجسٹریشن اور ڈیجیٹل فراڈ کے خلاف نفاذ پر مرکوز رہنے کا امکان ہے۔
UrduLead UrduLead