
نان فائلرز کو 10 فیصد، فائلرز کو 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا ہوگا
وفاقی ادارہ محصولات (ایف بی آر) نے 2026 کا نیا ودہولڈنگ ٹیکس کارڈ جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق نان فائلر ڈیجیٹل کنٹینٹ کریئٹرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو یکم جولائی 2026 سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدنی پر 10 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
ایف بی آر کے مطابق نیا ودہولڈنگ ٹیکس کارڈ فنانس ایکٹ 2026 کے تحت متعارف کرائی گئی تمام ترامیم کو شامل کرتے ہوئے 30 جون 2026 تک اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے علاوہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت پر نظرِ ثانی شدہ ودہولڈنگ ٹیکس شرحیں بھی نئے کارڈ میں شامل کی گئی ہیں۔
نئے کارڈ کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 154B سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے متعلق ہے، جس کے تحت ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ (ATL) میں شامل فائلر ڈیجیٹل کنٹینٹ کریئٹرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل آمدنی پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس دینا ہوگا، جبکہ ATL میں شامل نہ ہونے والوں یعنی نان فائلرز پر یہ شرح 10 فیصد ہوگی۔
دفعہ 154B کا پس منظر
یہ دفعہ فنانس بل 2026 کے ذریعے متعارف کرائی گئی تھی، جس کا مقصد یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ایک باضابطہ ٹیکس دائرے میں لانا ہے۔ اس سے قبل ڈیجیٹل کنٹینٹ کریئٹرز کی آمدنی کو آئی ٹی ایکسپورٹس کے زمرے میں رعایتی شرح پر ٹیکس دیا جاتا تھا، تاہم نئے قانون کے تحت سوشل میڈیا سے حاصل آمدنی کو اس رعایتی نظام سے الگ کر دیا گیا ہے۔
قانون کے مطابق بینکنگ اور نان بینکنگ مالیاتی ادارے کسی بھی فرد کے اکاؤنٹ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے موصول ہونے والی آمدنی پر ذریعہ ہی سے ٹیکس منہا کریں گے۔ فائلرز کے لیے یہ ٹیکس کم از کم ٹیکس تصور ہوگا جبکہ غیر مقیم افراد کے لیے یہ حتمی ٹیکس شمار ہوگا۔
ٹیکس ماہرین کے مطابق دفعہ 154B پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک اہم تبدیلی ہے، جس کا مقصد آن لائن اشتہارات، اسپانسرشپ اور مونیٹائزیشن سے حاصل آمدنی کو دستاویزی شکل دینا ہے۔ ماہرین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ آئی ٹی ایکسپورٹ رعایت (سیکشن 154A) اور نئی دفعہ 154B کے اطلاق کے حوالے سے ابہام موجود ہے، کیونکہ بعض کریئٹرز بیک وقت دونوں زمروں میں آ سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
نئے ٹیکس کے نفاذ پر ڈیجیٹل کریئٹرز اور آن لائن حلقوں میں تشویش دیکھی جا رہی ہے۔ متعدد یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز نے اپنی آمدنی پر اضافی کٹوتی اور بینکوں کی جانب سے “سوشل میڈیا انکم” کی شناخت کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں، خصوصاً ان کریئٹرز کی جانب سے جو پہلے ہی آئی ٹی ایکسپورٹ رجسٹریشن رکھتے ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ کریئٹرز ممکنہ اضافی کٹوتی سے بچنے کے لیے فوری طور پر خود کو ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل کروائیں۔
UrduLead UrduLead