
نیدرلینڈز میں مشقیں جاری
پاکستان ہاکی ٹیم آٹھ سال بعد ہاکی ورلڈ کپ میں واپسی کر رہی ہے، اور ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل کھلاڑی نیدرلینڈز میں وارم اپ مشقوں میں مصروف ہیں۔ ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کا انعقاد 15 سے 30 اگست تک نیدرلینڈز اور بیلجیم میں مشترکہ طور پر کیا جا رہا ہے، جہاں پاکستان سمیت 16 ٹیمیں ٹرافی کے لیے مدِمقابل ہوں گی۔
چار مرتبہ کی عالمی چیمپئن پاکستان ٹیم نے کوالیفائرز میں رنر اپ کی حیثیت سے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔ یہ 2018 کے بعد پاکستان کی ورلڈ کپ میں پہلی شرکت ہے، اس سے قبل ٹیم 2023 کے ایڈیشن کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکی تھی۔

شیڈول اور گروپ
پاکستان کو پول ڈی میں بھارت، انگلینڈ اور ویلز کے ساتھ رکھا گیا ہے، جسے ماہرین اس ٹورنامنٹ کے مشکل ترین گروپس میں شمار کر رہے ہیں۔ ٹورنامنٹ کا آغاز 15 اگست کو بھارت اور ویلز کے میچ سے ہوگا، جبکہ پاکستان اسی روز اپنی مہم کا آغاز انگلینڈ کے خلاف مقابلے سے کرے گا۔ اس کے بعد پاکستان کا دوسرا میچ ویلز کے خلاف ہوگا، جبکہ 19 اگست کو روایتی حریف بھارت کے خلاف مقابلہ ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے کے سب سے پرکشش مقابلوں میں سے ایک تصور کیا جا رہا ہے۔ یہ میچ ویگنر اسٹیڈیم، ایمسٹل ویں میں کھیلا جائے گا۔ واضح رہے کہ بھارت اور پاکستان 16 سال بعد ہاکی ورلڈ کپ میں مدِمقابل آ رہے ہیں، اس سے قبل دونوں ٹیمیں 2010 کے ایڈیشن میں نئی دہلی میں مدِمقابل آئی تھیں۔
دستے کا اعلان اور کپتانی میں تبدیلی
پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) نے 20 رکنی دستے کا اعلان کیا ہے جس میں تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں کا امتزاج شامل ہے۔ دستے کی قیادت ابوبکر محمود کے سپرد کی گئی ہے، جنہیں پروفیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی کی سفارش پر نیا کپتان مقرر کیا گیا، جبکہ تجربہ کار مڈفیلڈر عماد بٹ کو 14 سال بعد کپتانی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ ٹیم مینجمنٹ میں ہیڈ کوچ باب یوہان ویلڈہوف (نیدرلینڈز) اور اسسٹنٹ کوچ کرسٹوفر بوون (برطانیہ) شامل ہیں۔
نیدرلینڈز پہنچنے پر پرتپاک استقبال، مشقیں جاری
پاکستانی دستہ لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہو کر نیدرلینڈز پہنچا، جہاں نیدرلینڈز میں پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے کھلاڑیوں کا استقبال کیا۔ PHF کے مطابق کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کے سفری، رہائشی، غذائی اور مقامی نقل و حمل سمیت تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ روانگی سے قبل فیڈریشن نے کھلاڑیوں اور اسٹاف کے اکاؤنٹس میں 2 کروڑ روپے بطور ایڈوانس غیر ملکی روزانہ الاؤنس منتقل کیے تاکہ کھلاڑی مالی فکر سے آزاد ہو کر کارکردگی پر توجہ مرکوز رکھ سکیں۔
اب پاکستانی کھلاڑی ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل وارم اپ مشقوں میں مصروف ہیں، جہاں فٹنس ڈرلز اور پریکٹس سیشنز کے ذریعے ٹیم کو میدان میں اترنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر جوش و خروش
سوشل میڈیا صارفین نے قومی ٹیم کی روانگی اور مشقوں کی تصاویر و ویڈیوز پر بھرپور جوش کا اظہار کیا ہے۔ متعدد پرستاروں نے ٹیم کی نیدرلینڈز روانگی پر نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ہیش ٹیگز کے ذریعے حمایت کا اعلان کیا، جبکہ بھارت کے خلاف 19 اگست کے میچ کو مداحوں کی جانب سے خاص طور پر زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔ کئی صارفین نے پاکستان کی چار بار عالمی چیمپئن کی حیثیت کو یاد کرتے ہوئے ٹیم کی آٹھ سال بعد واپسی کو “ہاکی کی بحالی” کا نقطہ آغاز قرار دیا ہے۔
UrduLead UrduLead