
ماہرین کا دودھ کے استعمال پر زور
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں لڑکیوں، نوجوان خواتین اور عورتوں کی بڑی تعداد کیلشیم کی کمی کا شکار ہے، جس کی بنیادی وجہ خوراک میں دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات کا ناکافی استعمال ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں 75 فیصد سے زائد خواتین کسی نہ کسی سطح پر کیلشیم کی کمی کا شکار ہیں، جو ہڈیوں کی کمزوری، آسٹیوپوروسس اور جوڑوں کے امراض کا باعث بن رہی ہے۔
دودھ کیوں ضروری ہے؟
ماہرین طب کے مطابق دودھ کیلشیم، پروٹین اور وٹامن ڈی کا اہم ذریعہ ہے، جو ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہے۔ ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر شاہین ظفر کہتی ہیں کہ کیلشیم کی کمی خواتین کو درپیش سب سے سنگین صحت کے مسائل میں سے ایک ہے، جو گھریلو اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ زیاؤالدین ہسپتال کی پروفیسر ڈاکٹر سنبل ساحل کا کہنا ہے کہ چھوٹی عمر ہی سے لڑکیوں کو کیلشیم کی کمی اور اس کی روک تھام کے بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے، اور خوراک میں دودھ، دہی اور پنیر جیسی غذاؤں کو شامل کرنا اس کمی سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق بالغ خواتین کو یومیہ 1000 ملی گرام جبکہ 50 سال سے زائد عمر کی خواتین کو 1200 ملی گرام کیلشیم درکار ہوتا ہے، جبکہ ایک گلاس دودھ میں تقریباً 300 ملی گرام کیلشیم موجود ہوتا ہے۔ دودھ کے ساتھ ساتھ دہی، پنیر، تِل، بادام اور سبز پتوں والی سبزیاں بھی کیلشیم کے اہم ذرائع ہیں۔
عدم استعمال کے نقصانات
ماہرین کے مطابق اگر دودھ اور دیگر کیلشیم سے بھرپور غذائیں مناسب مقدار میں نہ لی جائیں تو نوجوان لڑکیوں میں ہڈیوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے، جبکہ بعد کی زندگی میں آسٹیوپوروسس اور فریکچرز کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ حمل اور دودھ پلانے کے دوران خواتین میں کیلشیم کی طلب مزید بڑھ جاتی ہے، ایسے میں ناکافی خوراک ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں وافر دھوپ کے باوجود خواتین میں وٹامن ڈی کی کمی بھی عام ہے، جس کی ایک وجہ لباس اور محدود دھوپ میں وقت گزارنا ہے، اور اس کے بغیر خوراک سے حاصل کیلشیم بھی مؤثر طریقے سے جذب نہیں ہو پاتا۔
بعض خواتین دودھ ہضم نہ ہونے (لیکٹوز عدم برداشت) کے باعث ڈیری کا استعمال ترک کر دیتی ہیں، جس سے کیلشیم کا ایک بنیادی ذریعہ خوراک سے خارج ہو جاتا ہے، جبکہ متبادل ذرائع کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ماہرین ایسی خواتین کو دیگر کیلشیم سے بھرپور غذاؤں یا معالج کے مشورے سے سپلیمنٹس کے استعمال کی تجویز دیتے ہیں۔
آگاہی مہمات اور سماجی سطح پر پیش رفت
اس اہم مسئلے پر آگاہی پھیلانے کے لیے مختلف تنظیموں اور طبی اداروں کی جانب سے کوششیں جاری ہیں۔ کراچی میں آرٹس کونسل آف پاکستان کے تعاون سے منعقدہ ایک تھیٹر پرفارمنس میں خواتین میں کیلشیم کی کمی اور اس کے اثرات کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا، جس میں طبی ماہرین اور ڈاکٹروں نے شرکت کی اور اس اقدام کو خواتین کی صحت سے متعلق آگاہی کے فروغ کے لیے سراہا۔
سوشل میڈیا پر آگاہی مہم
سوشل میڈیا پر بھی خواتین کی صحت اور غذائیت سے متعلق آگاہی مہمات میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جہاں ڈاکٹرز، نیوٹریشنسٹ اور ہیلتھ ایکٹیوسٹس دودھ اور کیلشیم کی اہمیت پر مبنی مواد شیئر کر رہے ہیں۔ بہت سے صارفین والدین کو مشورہ دے رہے ہیں کہ بچیوں کی خوراک میں چھوٹی عمر سے ہی دودھ، دہی اور دیگر ڈیری مصنوعات کو یقینی بنایا جائے تاکہ بعد میں ہڈیوں کی کمزوری اور دیگر پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔ ماہرینِ صحت کا مشورہ ہے کہ کیلشیم کی کمی کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر معالج سے رجوع کیا جائے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
UrduLead UrduLead