منگل , اگست 11 2026

وٹامن بی 12 کی کمی: صرف جسمانی کمزوری نہیں

دماغ، اعصابی نظام اور موڈ بھی متاثر — سوشل میڈیا پر بحث تیز

وٹامن بی 12 کی کمی اب محض جسمانی تھکن اور کمزوری تک محدود نہیں سمجھی جاتی، بلکہ طبی ماہرین کے مطابق یہ دماغ، اعصابی نظام اور مزاج پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

ماہرینِ نفسیات اور معالجین کے مطابق کوبالامین (وٹامن بی 12) اعصابی خلیوں کی حفاظتی تہہ (مائیلین) کی تشکیل، نیوروٹرانسمیٹرز کی پیداوار اور دماغ کو نقصان پہنچانے والے مادے ہومو سسٹین کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اسی وجہ سے اس کی کمی ڈپریشن، اضطراب، بھول پن، ذہنی دھند (برین فاگ)، چڑچڑاپن اور بعض شدید کیسز میں نفسیاتی علامات تک کا باعث بن سکتی ہے۔

نئی تحقیق: ’’نارمل‘‘ سطح بھی خطرناک ہو سکتی ہے

امریکی ریاست کیلیفورنیا کی جامعہ (یو سی ایس ایف) کی حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بی 12 کی وہ سطح جسے فی الحال ’’نارمل‘‘ تصور کیا جاتا ہے، دراصل بزرگ افراد میں سست ذہنی رفتار، بصارت کی کمزور کارکردگی اور دماغ کی سفید بافت (وائٹ میٹر) کو نقصان پہنچانے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ خون کے معیاری ٹیسٹ میں ’’نارمل‘‘ نتیجہ آنے کے باوجود مریض میں یادداشت، سوچنے کی رفتار یا بصارت میں تبدیلیاں ظاہر ہو سکتی ہیں، جس سے موجودہ طبی رہنما اصولوں پر نظرثانی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ بی 12 کی کمی دماغ میں ڈوپامائن ریسیپٹرز کی سرگرمی کم کر دیتی ہے، جس کا براہِ راست تعلق موڈ اور یادداشت سے جڑا ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی موضوع زیرِ بحث

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً ٹک ٹاک پر بھی وٹامن بی 12 کی کمی سے متعلق ویڈیوز کو غیر معمولی پذیرائی مل رہی ہے۔ متعدد ڈرمیٹولوجسٹس اور صحت سے متعلق کانٹینٹ کریئٹرز کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز میں ہاتھوں اور پیروں کی جلد پر سیاہ دھبوں (ہائپر پگمنٹیشن) کو بی 12 کی کمی کی ممکنہ علامت کے طور پر اجاگر کیا جا رہا ہے، جنہیں ہزاروں صارفین دیکھ اور شیئر کر چکے ہیں۔ اسی طرح مختلف ویب سائٹس اور صحت پر مبنی بلاگز پر بھی خواتین میں بی 12 کی کمی کی علامات، تھکن، بے خوابی اور موڈ میں تبدیلی جیسے موضوعات پر مضامین کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو صارفین میں اس موضوع سے متعلق بڑھتی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔

ماہرین کا مؤقف: بروقت تشخیص ضروری

طبی ماہرین کے مطابق وٹامن بی 12 کی کمی کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے کیونکہ اس کی نفسیاتی علامات جسمانی علامات سے پہلے ظاہر ہو سکتی ہیں، جس کے باعث انہیں غلطی سے براہِ راست ذہنی امراض سمجھ لیا جاتا ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ غیر واضح تھکن، یادداشت میں کمی، مزاج میں بلاوجہ تبدیلی یا بے حسی جیسی علامات کی صورت میں بروقت ڈاکٹر سے رجوع اور خون کے ٹیسٹ کے ذریعے بی 12 کی سطح جانچنا ضروری ہے، خاص طور پر بزرگ افراد، سبزی خور اور ویگن غذا اپنانے والے افراد میں جو اس کمی کے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔

نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ملک بھر میں شدید گرمی جاری: محکمہ موسمیات

سندھ میں پارہ 45 ڈگری تک پہنچنے کا امکان، پہاڑی علاقوں میں گرج چمک کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے