
ایزی پیسہ بینک ٹرانسفرز اور یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی میں صارفین کو زیادہ بچت دے رہا ہے۔
پاکستان میں موبائل والٹ مارکیٹ میں ایزی پیسہ اور جاز کیش کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔ 2026 کی دستیاب فیس تفصیلات کے مطابق روزمرہ لین دین میں ایزی پیسہ کئی معاملات میں آگے ہے۔
دونوں پلیٹ فارمز پر ایجنٹ سے نقد رقم نکلوانے کی فیس میں نمایاں فرق نہیں ہے۔ تاہم بینک اکاؤنٹس میں رقم منتقل کرنے کے معاملے میں دونوں سروسز کے درمیان واضح فرق سامنے آتا ہے۔
ایزی پیسہ بینک ٹرانسفر اور Raast ادائیگیوں پر سروس فیس وصول نہیں کرتا۔ دستیاب معلومات کے مطابق ان سہولیات پر ماہانہ سروس فیس کی کوئی مخصوص حد بھی مقرر نہیں ہے۔
جاز کیش صارفین کو ماہانہ مجموعی 25 ہزار روپے تک بینک ٹرانسفر مفت فراہم کرتا ہے۔ اس حد سے زیادہ رقم منتقل کرنے پر 0.1 فیصد یا 200 روپے، جو کم ہو، فیس وصول کی جاتی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق Raast کے ذریعے رقم بھیجنے اور وصول کرنے پر فی الحال کوئی چارجز نہیں ہیں۔ Raast پاکستان کا فوری ادائیگی کا نظام ہے، جو بینکنگ اور ڈیجیٹل والٹ صارفین کو رقم منتقل کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی میں بھی محدود تعداد میں بل ادا کرنے والے صارفین کے لیے ایزی پیسہ زیادہ سستا ہے۔ ایزی پیسہ پر ہر ماہ پہلے تین یوٹیلیٹی بل مفت ادا کیے جا سکتے ہیں۔
جاز کیش پہلے تین بلوں پر فی بل 5 روپے فیس وصول کرتا ہے۔ اس کے بعد دونوں پلیٹ فارمز پر اضافی بلوں کے لیے مختلف مقررہ فیس لاگو ہوتی ہے۔
CNIC کے ذریعے نقد رقم وصول کرنے کے معاملے میں بھی زیادہ رقم پر معمولی فرق موجود ہے۔ 20,001 سے 25,000 روپے تک رقم وصول کرنے پر ایزی پیسہ 600 روپے وصول کرتا ہے۔
اسی حد میں جاز کیش کی فیس 650 روپے ہے۔ تاہم کم مالیت کی متعدد لین دین میں دونوں پلیٹ فارمز کی فیس کافی حد تک ایک جیسی رہتی ہے۔
والٹ میں رقم منتقل کرنے کے طریقہ کار پر صارفین کو خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ ایزی پیسہ منسلک بینک اکاؤنٹ سے رقم کھینچ کر والٹ میں شامل کرنے پر ٹیکس سمیت 2 فیصد فیس وصول کرتا ہے۔
اس کے مقابلے میں براہ راست بینک ایپ سے والٹ کے IBAN پر رقم منتقل کرنا بعض صورتوں میں زیادہ سستا ثابت ہوسکتا ہے۔ صارفین کو لین دین مکمل کرنے سے پہلے متعلقہ بینک اور والٹ کے موجودہ چارجز ضرور دیکھنے چاہئیں۔
قیمتوں کے علاوہ دونوں والٹس کی اپنی الگ خصوصیات بھی موجود ہیں۔ جاز کیش فری لانسرز کے لیے Payoneer انضمام سمیت مختلف سہولیات فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب ایزی پیسہ کا وسیع ایجنٹ نیٹ ورک ایسے صارفین کے لیے اہم سہولت فراہم کرتا ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں ایجنٹ نیٹ ورک ڈیجیٹل مالی خدمات تک رسائی بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2026 کی تیسری سہ ماہی میں موبائل بینکنگ ایپس اور ای منی والٹس کے ذریعے 2.89 ارب لین دین ہوئے۔
ان لین دین کی مجموعی مالیت 41.67 کھرب روپے رہی۔ اسی سہ ماہی میں Raast کے ذریعے 742 ملین لین دین کیے گئے، جن کی مالیت 23.27 کھرب روپے تھی۔
مارچ 2026 تک برانچ لیس بینکنگ موبائل ایپ صارفین کی تعداد 95.8 ملین تک پہنچ چکی تھی۔ یہ اعداد پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
صارفین کے لیے بہترین والٹ کا انتخاب اب صرف برانڈ کی مقبولیت تک محدود نہیں رہا۔ جو صارف زیادہ بینک ٹرانسفر اور معمول کے یوٹیلیٹی بل ادا کرتا ہے، اس کے لیے ایزی پیسہ زیادہ فائدہ مند ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب فری لانسنگ، مخصوص خدمات یا قریبی ایجنٹ کی دستیابی جاز کیش کو بہتر انتخاب بنا سکتی ہے۔ دونوں پلیٹ فارمز اپنی فیس میں وقتاً فوقتاً تبدیلی کرتے ہیں، اس لیے لین دین سے پہلے تازہ ترین چارجز دیکھنا ضروری ہے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام مزید وسعت اختیار کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں ایزی پیسہ اور جاز کیش کے درمیان مقابلہ قیمتوں، سہولت اور نئی ڈیجیٹل خدمات پر مزید مرکوز ہونے کا امکان ہے۔
UrduLead UrduLead