اتوار , اگست 9 2026

پاکستان میں نوجوانوں میں دل کے امراض

25 سے 35 سال کی عمر میں ہارٹ اٹیک کیوں بڑھ رہے ہیں؟

پاکستان میں طبی ماہرین اس وقت ایک تشویشناک رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں — نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک اور دل کی بیماریوں کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ، جو اب کوئی نادر واقعہ نہیں رہا بلکہ ایک وسیع پیمانے پر پھیلتا ہوا رجحان بن چکا ہے۔

اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) کے کارڈیالوجسٹس کے مطابق، پاکستان میں ہارٹ اٹیک کے تقریباً نصف مریض 49 سال سے کم عمر ہیں، جبکہ 15 فیصد مریضوں کی عمر 40 سال سے بھی کم ہے۔ ادارے کے کیتھ لیب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالحکیم کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں کم عمر ہارٹ اٹیک مریضوں کی سب سے بلند شرح رکھتا ہے، جہاں ہر تیسرا بالغ فرد ذیابیطس کا شکار ہے، 40 فیصد ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہیں، موٹاپا عام ہے اور سگریٹ نوشی کی شرح بھی بلند ہے۔

ایک اور تحقیق کے مطابق پاکستان کے مختلف کارڈیالوجی اداروں میں ہر تین میں سے ایک دل کا مریض 40 سال سے کم عمر ہے، جبکہ 30 سے 50 سال کی عمر کے 50 فیصد افراد ہائی بلڈ پریشر اور 32 فیصد ذیابیطس کا شکار پائے گئے۔

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں جاری ایک تحقیق کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر حنیف کے مطابق اب 30 اور 40 کی دہائی میں، حتیٰ کہ 19-20 سال کی عمر کے افراد میں بھی ہارٹ اٹیک دیکھنے میں آ رہے ہیں، اور یہ دنیا میں کہیں اور نہیں ہو رہا — یہ ایک منفرد پاکستانی بحران ہے۔

عام وجوہات: طرزِ زندگی

زیادہ تر ماہرین جن اسباب کی نشاندہی کرتے ہیں وہ ہیں: بیٹھے رہنے کی عادت، غیر صحت بخش خوراک، موٹاپے کی بڑھتی شرح، سگریٹ نوشی اور ذہنی دباؤ کی بلند سطح۔ شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے شعبہ امراضِ قلب کے سربراہ ڈاکٹر اسعد اکبر کہتے ہیں کہ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور موٹاپا جیسے مسائل جو کبھی صرف بزرگوں میں دیکھے جاتے تھے، اب نوجوانوں میں بھی عام ہو چکے ہیں۔

وہ کم معروف وجوہات جو صرف “طرزِ زندگی” تک محدود نہیں

آپ کے سوال کا اصل نکتہ یہی ہے — کیا یہ صرف عام سی وجوہات (خوراک، ورزش کی کمی) کا نتیجہ ہے، یا اس کے پیچھے کچھ اور بھی ہے؟ تحقیق بتاتی ہے کہ معاملہ اس سے کہیں گہرا ہے:

1. جینیاتی اور نسلی حساسیت
ماہرین کے مطابق جینیاتی رجحان، انسولین کے خلاف مزاحمت، پیٹ کا موٹاپا، جسم میں دائمی سوزش اور ماحولیاتی عوامل کا مجموعہ اس کا ذمہ دار ہو سکتا ہے۔ اسی لیے امریکی طبی معیارات پاکستانی نوجوانوں پر پوری طرح لاگو نہیں ہوتے — موجودہ امریکی رسک ماڈلز بزرگ آبادی کے لیے بنائے گئے ہیں اور 40 سال سے کم عمر افراد کا احاطہ نہیں کرتے، اس لیے پاکستان کے لیے الگ کارڈیو ویسکولر رسک اسکور کی ضرورت ہے۔

2. تشخیص میں تاخیر اور علامات کی غلط تعبیر
ایک اہم اور غیرمعمولی وجہ یہ ہے کہ این آئی سی وی ڈی کے اعداد و شمار کے مطابق دس میں سے نو مریضوں کو شدید سینے کا درد محسوس نہیں ہوا بلکہ صرف بھاری پن یا تیزابیت جیسی تکلیف تھی — جو علاج میں تاخیر کا باعث بنتی ہے۔ ڈاکٹر حکیم مزید بتاتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ڈھیلے کپڑوں کی وجہ سے وزن میں اضافہ چھپ جاتا ہے، اسی لیے اکثر لوگوں کو اپنے خطرے کا اندازہ ہی نہیں ہوتا، اور 30 سال کی عمر کے بعد ہر شخص کو دل کا معائنہ کروانا چاہیے۔

3. ٹیکنالوجی، ذہنی تناؤ اور طرزِ زندگی کی تبدیلی
ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ناقص خوراک، ورزش کی کمی، ذہنی دباؤ اور ڈیجیٹل آلات کی لت نوجوانوں کی جسمانی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہے، اور نوجوان گھر کے کھانے اور جسمانی سرگرمی سے دور ہوتے جا رہے ہیں جبکہ فاسٹ فوڈ اور بیٹھے رہنے کا طرزِ زندگی معمول بن چکا ہے۔

4. ماحولیاتی اور شہری آلودگی
تحقیق کاروں نے روایتی اسباب سے آگے بڑھ کر ہوا اور پانی کے معیار، آلودگی کی سطح اور علاقائی غذائی عادات جیسے ماحولیاتی اور آبادیاتی عوامل کا بھی جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

5. موٹاپے کی غیرمعمولی شرح
ایک بڑے مطالعے میں انکشاف ہوا کہ 70 فیصد سے زائد نوجوان پاکستانی موٹاپے کا شکار پائے گئے، اور 42 فیصد شرکاء میں غیر تشخیص شدہ ہائی بلڈ پریشر جبکہ 23 فیصد میں غیر تشخیص شدہ ذیابیطس موجود تھی۔

عالمی تناظر میں پاکستان مختلف کیوں؟

مغربی ممالک سے موازنہ اہم ہے: یہ مسئلہ پاکستان میں 30 اور 40 کی دہائی میں سامنے آ رہا ہے، جو مغرب کے مقابلے میں کئی دہائیاں پہلے ہے، جہاں ایسے واقعات عام طور پر 60 سال کی عمر کے بعد دیکھے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے گیٹز فارما کے تعاون سے PAK-SEHAT نامی 10 سالہ تحقیقی منصوبہ شروع کیا گیا ہے، جو پاکستانی نوجوانوں میں قبل از وقت دل کی بیماری کی وجوہات جاننے کے لیے 2 ہزار سے زائد بظاہر صحت مند بالغ افراد پر مشتمل ہے اور اس میں جینوم سیکونسنگ اور خون میں سوزش کے مارکرز کی جانچ بھی شامل ہے۔

آغا خان یونیورسٹی میں شروع ہونے والی ایک اور تحقیق، “لائف کارڈ اسٹڈی”، اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ بچپن سے شروع ہونے والے ماحولیاتی، میٹابولک اور سماجی عوامل کس طرح مستقبل میں دل کی صحت کو متاثر کرتے ہیں، کیونکہ بہت سے پاکستانی نوجوان ایسے ماحول میں پروان چڑھ رہے ہیں جہاں ورزش کے لیے محفوظ عوامی مقامات کی کمی، جسمانی سرگرمی میں کمی اور غیر صحت بخش خوراک عام ہوتی جا رہی ہے۔

ماہرین کا انتباہ

ماہرینِ صحت خبردار کرتے ہیں کہ اگر فوری طور پر احتیاطی تدابیر متعارف نہ کروائی گئیں تو پاکستان کو کام کرنے کی عمر کے بالغ افراد میں قبل از وقت اموات میں بڑے اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے خاندانوں اور صحتِ عامہ کے نظام پر بھاری دباؤ پڑے گا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

قومی ہاکی ٹیم کا اعلان: پاکستان کا بھارت سے دلچسپ مقابلہ طے

پی ایچ ایف نے ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کے لیے 20 رکنی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے