
پٹرول 2.20 روپے اور ڈیزل 1.50 روپے فی لیٹر سستا، نئی قیمتیں 8 اگست سے نافذ — لگاتار دوسرے دن کمی سے صارفین کو مجموعی طور پر 5.39 روپے کا ریلیف
وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ پریس ریلیز کے مطابق، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کے نظرِ ثانی شدہ پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کی روشنی میں 8 سے 10 اگست 2026 کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی ایکس ڈپو قیمتوں میں مزید کمی کر دی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت 1.50 روپے کم کر کے 380.86 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جو پہلے 382.36 روپے تھی۔ اسی طرح موٹر اسپرٹ یعنی پٹرول (MS) کی قیمت میں 2.20 روپے کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327.62 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جو پہلے 329.82 روپے تھی۔ نئی قیمتیں 8 اگست 2026 سے فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
یہ کمی کیوں ہوئی؟ روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام
یہ حالیہ کمی دراصل حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے یومیہ پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا حصہ ہے، جسے آبنائے ہرمز پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی توانائی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر گزشتہ ماہ نافذ کیا گیا تھا۔ اس نظام کے تحت اوگرا کو وزیراعظم یا وفاقی کابینہ کی پیشگی منظوری کے بغیر بین الاقوامی تیل کی قیمتوں، فریٹ اخراجات اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کی سات روزہ اوسط کی بنیاد پر روزانہ پمپ ریٹ مقرر کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
یہ لگاتار دوسرے دن کی کمی ہے۔ اس سے ایک روز قبل، یعنی 7 اگست کو بھی پٹرول کی قیمت میں 3.19 روپے اور ڈیزل میں 1.50 روپے کی کمی کی گئی تھی۔ دونوں دن کی کٹوتیوں کو ملا کر گزشتہ 24 گھنٹوں میں پٹرول 5.39 روپے اور ڈیزل 3.00 روپے فی لیٹر سستا ہو چکا ہے — ایسے صارفین کے لیے ایک خوش آئند تبدیلی جو حالیہ مہینوں میں زیادہ تر قیمتوں میں اضافے کے عادی ہو چکے تھے۔
مارکیٹ رپورٹس کے مطابق، آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی امیدوں کے باعث عالمی خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جہاں برینٹ کروڈ تقریباً 5 فیصد گر کر 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا، جبکہ امریکی WTI بھی اسی طرح کی کمی کا شکار ہوا۔ عالمی منڈی میں اسی نرمی کا اثر مقامی سطح پر صارفین تک منتقل کیا جا رہا ہے۔
پس منظر: مارچ سے اب تک کا سفر
پاکستان نے رواں سال فروری کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد عالمی تیل قیمتوں میں اچانک اضافے کے پیشِ نظر مارچ میں ہفتہ وار قیمتوں کے تعین کا نظام اپنایا تھا۔ تاہم صورتحال میں مسلسل عدم استحکام کے باعث حکومت نے 18 جولائی کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا اختیار مکمل طور پر اوگرا کو منتقل کر دیا، جس کے بعد سے قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر جاری کی جا رہی ہیں۔
ڈیلرز کی ناراضگی: ہڑتال کا خطرہ برقرار
قیمتوں میں کمی کی اس خبر کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے پٹرول ڈیلرز میں بےچینی بھی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (PPDA) کی جانب سے پیٹرولیم منسٹری کو دی گئی 15 روزہ ڈیڈ لائن 7 اگست کو ختم ہو چکی ہے، جس کے بعد ملک بھر میں پٹرول پمپ بند ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
PPDA کے چیئرمین ملک خدا بخش کا مؤقف ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں تبدیلی نے ڈیلرز کو شدید مالی بحران میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ اسٹاک پر نقصان اور ورکنگ کیپیٹل کی خرابی معمول بن چکی ہے۔ نائب چیئرمین طارق حسن کے مطابق چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیلرز کے لیے کاروبار چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کو ہنگامی خط ارسال کر کے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے، اور 10 اگست کو ہونے والے ہنگامی اجلاس میں ملک گیر ہڑتال اور پمپ بند کرنے کے آپشن پر غور کیا جائے گا۔
ڈیلرز کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ان کا منافع مارجن موجودہ 2.6 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کیا جائے، روزانہ کی قیمتوں کے تعین کے نظام کو ختم کر کے پرانا 15 روزہ یا ماہانہ نظام بحال کیا جائے، اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے عائد کوٹہ سسٹم ختم کیا جائے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جولائی کے دوران بھی اسی معاملے پر ملک گیر ہڑتال کی دھمکی سامنے آئی تھی، جو حکومتی یقین دہانیوں کے بعد موخر کر دی گئی تھی، تاہم ڈیلرز کے بقول ان کے مسائل تاحال حل طلب ہیں۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے لگاتار دو دن کی قیمتوں میں کمی کو خوش آئند قرار دیا ہے اور اسے عرصے بعد ایک “غیر معمولی ریلیف” سے تعبیر کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عوام مہینوں سے مسلسل مہنگائی کی خبریں سن رہے تھے۔ تاہم ساتھ ہی بہت سے صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں تبدیلی سے عام صارف اور چھوٹے دکانداروں کے لیے بجٹ بنانا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ ٹرانسپورٹرز اور پٹرول پمپ مالکان کی جانب سے اس نظام پر تحفظات بھی مسلسل زیرِ بحث ہیں۔ پٹرول پمپ ہڑتال کی خبر پر بھی صارفین میں تشویش پائی جاتی ہے، خصوصاً ان صوبوں میں جہاں ماضی میں ہڑتالوں کے باعث طویل قطاریں اور ایندھن کی قلت دیکھی جا چکی ہے۔
UrduLead UrduLead