جمعہ , اگست 7 2026

یوفون تنقید کی زد میں: پارلیمنٹ سے سوشل میڈیا، ایک ہی آواز

سینیٹ کے فلور سے لے کر ٹرسٹ پائلٹ کے صارف تبصروں تک، شکایات کا ایک واضح پیٹرن اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ٹیلی کام آپریٹر مشکلات کا شکار ہے — عین اس وقت جب اس کا ٹیلی نار پاکستان کے ساتھ انضمام جاری ہے۔

پارلیمنٹ میں دباؤ میں اضافہ

یوفون کے نیٹ ورک کے مسائل اس ہفتے سینیٹ تک جا پہنچے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں، چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے صاف پوچھا کہ آخر یوفون کی سروس “ختم” کیوں ہو گئی ہے۔ پی ٹی اے چیئرمین نے ان خدشات کو درست تسلیم کرتے ہوئے بتایا کہ یوفون — جو ایک سرکاری ملکیتی آپریٹر ہے — کے آپریشنل مسائل ٹیلی نار پاکستان کے ساتھ انضمام کی تکمیل کے بعد، جو آنے والے دنوں میں مکمل ہونے کی توقع ہے، حل ہو جانے کی امید ہے۔

کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان میں اس وقت 21 کروڑ فعال سمز موجود ہیں، اور پی ٹی اے نادرا کے ساتھ مل کر شہریوں کو پاک آئی ڈی پلیٹ فارم کے ذریعے گھر بیٹھے ڈیجیٹل طور پر سم حاصل کرنے کے قابل بنانے پر کام کر رہا ہے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے الگ سے ای سم ٹیکنالوجی کی طرف پاکستان کی سست پیش رفت پر سوال اٹھایا، اور نشاندہی کی کہ دنیا کے بہت سے ممالک روایتی سم کارڈز کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔

یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں۔ یہ اس سال پارلیمانی اجلاسوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے جن میں یوفون کو بار بار ملک کے سب سے کمزور کارکردگی دکھانے والے نیٹ ورک کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی میں بھی وہی موضوع بار بار

اس سے محض تین ہفتے قبل، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے بھی اسی مسئلے پر اپنا اجلاس منعقد کیا تھا۔ چیئرمین سید امین الحق نے کمیٹی کو بتایا کہ یوفون کی سروس کوالٹی “سب سے بدترین” ہو چکی ہے، اور خبردار کیا کہ جاری یوفون-ٹیلی نار انضمام حالات کو بہتر ہونے سے پہلے مزید بگاڑ سکتا ہے۔ رکن کمیٹی مہیش کمار، جنہوں نے بتایا کہ وہ برسوں سے یہی شکایت اٹھاتے آ رہے ہیں مگر کوئی بہتری نظر نہیں آئی، نے کراچی میں یوفون کے نیٹ ورک کو “انتہائی ناقص” قرار دیا۔ رکن صادق میمن نے مزید کہا کہ کال کوالٹی اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہری مراکز میں بھی غیر معتبر ہو چکی ہے، جبکہ رکن رانا ارادت شریف نے خبردار کیا کہ انضمام مکمل ہونے کے بعد ٹیلی نار کے صارفین کی سروس بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

پی ٹی اے کا ردعمل وہی رہا جو بعد میں اس نے سینیٹ کو بھی بتایا: ریگولیٹر یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ سروس کوالٹی میں بہتری آئی ہے، بلکہ اس کی امیدیں 5G کی تجارتی بنیادوں پر لانچنگ سے وابستہ ہیں۔ کمیٹی اس جواب سے مطمئن نہ ہوئی — اس نے پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل)، یعنی یوفون کی مالک کمپنی، کے حکام کو طلب کیا تاکہ وہ بہتری کے منصوبے پیش کریں، اور ساتھ ہی پی ٹی اے پر زور دیا کہ معیار پر پورا نہ اترنے والے آپریٹرز کے خلاف سخت ریگولیٹری کارروائی کرے۔ ایک متعلقہ قومی اسمبلی اجلاس میں اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے تمام ٹیلی کام کمپنیوں کو خبردار کیا گیا کہ مسلسل ناقص سروس کی صورت میں لائسنس معطل کیے جا سکتے ہیں۔

عام صارفین آن لائن کیا کہہ رہے ہیں

پارلیمانی اجلاس ادارہ جاتی سطح کی شکایات کو ظاہر کرتے ہیں، مگر عوامی سطح پر ناراضگی روزمرہ صارف رائے میں بھی اتنی ہی واضح نظر آتی ہے:

  • ٹرسٹ پائلٹ پر یوفون کے متعدد حالیہ صارفین نے بتایا کہ ڈیٹا گھنٹوں کے لیے کام کرنا بند ہو جاتا ہے، شام کے مصروف اوقات میں سپیڈ تقریباً صفر تک گر جاتی ہے، اور کراچی کے ایک صارف نے تو یہاں تک بتایا کہ پریمیم ڈیٹا پیکج خریدنے کے باوجود انہیں 2G جیسی سپیڈ مل رہی ہے۔
  • کمپلینٹس بورڈ پر یوفون کی مجموعی ریٹنگ درجنوں درج شدہ شکایات کی بنیاد پر تقریباً 1.6 آؤٹ آف 5 ہے، جہاں پلیٹ فارم کے مطابق حل ہونے کی شرح صرف تقریباً 15 فیصد ہے۔ ان میں سے کئی شکایات کراچی اور لاہور کے کم سہولت یافتہ علاقوں کے صارفین کی جانب سے ہیں جو یوفون سے ٹاور نصب کرنے کی درخواست کر رہے ہیں کیونکہ ان کے علاقے میں سرے سے کوئی سگنل ہی موجود نہیں۔
  • کمپلینٹ ڈاٹ پی کے پر صارفین بلنگ کی غلطیوں کی شکایت کرتے ہیں — بشمول ایسے واقعات جن میں ایک ناکام لین دین کے بعد ایک ہی پیکج کی دو بار رقم کاٹی گئی — اس کے علاوہ کسٹمر سپورٹ کے سست ردعمل پر بھی عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔
  • فیس بک کے صارف حقوق سے متعلق گروپس اور لنکڈ ان جیسے پلیٹ فارمز پر بار بار ایسی پوسٹس نظر آتی ہیں جن میں یوفون کی کسٹمر سروس کو “بدترین” قرار دیا جاتا ہے اور شکایات کے حل نہ ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے۔
  • یہاں تک کہ یوفون کی بین الاقوامی رومنگ سروس کی وشوسنییتا پر بھی تنقید سامنے آئی ہے، ٹیک فورمز پر صارفین نے بیرون ملک سفر کے دوران اچانک سروس منقطع ہونے کی شکایت کی، حالانکہ یوفون نے تصدیق کی تھی کہ ان کی سم فعال ہے۔

اگرچہ کوئی ایک شکایت خود سے کسی نظامی خرابی کو ثابت نہیں کرتی، مگر شکایات کی مقدار اور تسلسل — کمزور اندرونی و بیرونی کوریج، سست ڈیٹا سپیڈ، کالز کا کٹنا، شکایات کے سست حل — تقریباً بعینہ اس صورتحال سے مماثلت رکھتا ہے جو قانون ساز کمیٹی اجلاسوں میں بیان کر رہے ہیں۔

پس منظر: پہلے سے دباؤ کا شکار آپریٹر

اس کی کچھ وجہ محض بدانتظامی کے بجائے ساختیاتی مسائل بھی ہو سکتے ہیں۔ ویکیپیڈیا پر موجود کمپنی کے حوالہ شدہ جائزے کے مطابق، یوفون تقریباً 2 کروڑ 90 لاکھ صارفین کی خدمت کے باوجود صرف 10,000 سے کچھ زائد سیل سائٹس چلا رہا ہے — جو پاکستان کے چاروں موبائل نیٹ ورک آپریٹرز میں سب سے کم ہیں۔ وہاں درج مالیاتی اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی کو 2023 میں تقریباً 24.6 ارب روپے کا خالص خسارہ ہوا، جو حریف کمپنیوں کے مقابلے میں نیٹ ورک کی صلاحیت میں کم سرمایہ کاری کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

یوفون-ٹیلی نار انضمام، جو دسمبر 2025 میں اس وقت حتمی شکل اختیار کر گیا جب پی ٹی سی ایل نے ٹیلی نار پاکستان کے اسپیکٹرم اور نیٹ ورک اثاثوں کا حصول مکمل کیا، کو پی ٹی اے اور کمپنی کی قیادت اس مسئلے کے حل کے طور پر پیش کر رہی ہیں: ایک مشترکہ ادارہ جس کے پاس زیادہ ٹاورز اور زیادہ اسپیکٹرم ہوگا، بشمول وہ اسپیکٹرم جو 2026 کی نیلامی میں حاصل کیا گیا۔ لیکن سینیٹ اور قومی اسمبلی، دونوں کمیٹیوں کے اراکین نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ دو نیٹ ورکس کو ضم کرنے میں قلیل مدتی طور پر سروس کی مزید ابتری کا حقیقی خطرہ موجود ہے، نہ کہ صرف بہتری کا۔

نچوڑ

تین الگ الگ دھاگے ایک ہی سمت اشارہ کرتے ہیں:

  1. پارلیمنٹ — سینیٹ اور قومی اسمبلی، دونوں نے پے در پے اجلاسوں میں یوفون کو نام لے کر پاکستان کے سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بننے والے نیٹ ورک آپریٹر کے طور پر پیش کیا ہے۔
  2. ریگولیٹر — پی ٹی اے نے یوفون کی موجودہ کارکردگی کا دفاع نہیں کیا، بلکہ کھلے عام قانون سازوں کو بتایا ہے کہ وہ سروس کوالٹی میں بہتری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
  3. عوام — آزاد ریویو پلیٹ فارمز اور سوشل چینلز پر کمزور سگنل، سست ڈیٹا سپیڈ، بلنگ کے مسائل، اور شکایات کے سست حل جیسی شکایات کا مسلسل پیٹرن نظر آتا ہے، جو کمیٹی اجلاسوں میں اٹھائے گئے مسائل سے ہو بہو مماثلت رکھتا ہے۔

یہ کہ یوفون-ٹیلی نار انضمام وہ تبدیلی لاتا ہے جس کا وعدہ پی ٹی اے کر رہا ہے یا نہیں، شاید یہی طے کرے گا کہ آیا یہ پیٹرن ٹوٹتا ہے — یا یوفون پاکستان کے ٹیلی کام کوالٹی مسئلے کی پارلیمنٹ کی سب سے زیادہ حوالہ دی جانے والی مثال بنا رہتا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پاکستان کی ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں فتح

پاکستان کرکٹ ٹیم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں 8 وکٹوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے