جمعرات , اگست 6 2026

چینی کمرشل قرض رواں ماہ ملنے کا امکان

پاکستان نے چین سے 1.3 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کی ری فنانسنگ کی درخواست کر دی ہے، ذرائع کے مطابق شرائط و ضوابط طے ہونے کے بعد رواں ماہ کے آخر تک یہ رقم موصول ہونے کی توقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ری فنانسنگ کے عمل کو تیز کرنے کے لیے چینی حکام کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ اس رقم کی آمد سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو بروقت سہارا ملنے کی توقع ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے جولائی میں مجموعی طور پر 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی، جس میں چین کے 1.3 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کی واپسی بھی شامل تھی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بتایا ہے کہ رواں مالی سال 2026-27 کے دوران ملک کو بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی مد میں مجموعی طور پر تقریباً 21.5 ارب ڈالر خرچ کرنا ہوں گے، جو گزشتہ مالی سال 2025-26 میں ادا کیے گئے 26.5 ارب ڈالر کے مقابلے میں قریباً 5 ارب ڈالر کم ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مالی سال 27-2026 کے دوران پاکستان 18 ارب ڈالر بطور اصل زر جبکہ 3.5 ارب ڈالر سود کی مد میں ادا کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ 21.5 ارب ڈالر میں سے تقریباً 6 ارب ڈالر جولائی 2026 میں ہی ادا کیے جا چکے ہیں، جس میں 4 ارب ڈالر اصل زر جبکہ 1.4 ارب ڈالر سود کی مد میں شامل تھے۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق 18 ارب ڈالر کے کل اصل زر میں سے 10 سے 11 ارب ڈالر رول اوور یا ری فنانس کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد خالص قابلِ ادائیگی رقم 7.5 ارب ڈالر رہ جائے گی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے توقع ظاہر کی کہ کارکنوں کی ترسیلات زر، برآمدی آمدنی اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے آنے والی سرمایہ کاری میں اضافے سے ملک کا بیرونی کھاتہ مزید بہتر ہوگا۔

ان کے مطابق مالی سال 27-2026 کے دوران کارکنوں کی ترسیلات زر کا تخمینہ 44 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جو گزشتہ مالی سال کے ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2.4 ارب ڈالر زیادہ ہے، جبکہ برآمدی آمدنی بھی بڑھ کر 32 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان نے مجموعی طور پر 27.2 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ حاصل کی تھی، جس میں آئی ایم ایف سے 2.2 ارب ڈالر، سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر اور چین کے 4 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی رول اوور شامل تھی۔ اس فنانسنگ کا تقریباً 88 فیصد یعنی 24 ارب ڈالر بجٹ سپورٹ، قرضوں کی ادائیگی اور زرمبادلہ ذخائر مضبوط کرنے پر خرچ ہوا، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے صرف 3.4 ارب ڈالر مختص کیے گئے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق دسمبر 2026 تک ملکی زرمبادلہ ذخائر ریکارڈ سطح پر پہنچنے کی توقع ہے۔

ری فنانسنگ کی یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان بیرونی مالیاتی ضروریات پوری کرنے اور قرضوں کی مسلسل ادائیگیوں کے دوران زرمبادلہ ذخائر کو مناسب سطح پر برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پیٹرول 3 روپے 39 پیسے اور ڈیزل 4 روپے 7 پیسے سستا

نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری حکومت نے 5 اگست کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے