
پاکستان گیس شعبے میں ڈی ریگولیشن کے لیے نیا روڈ میپ تیار کر رہا ہے۔ منصوبے کا مقصد مسابقتی قیمتوں، بہتر نگرانی اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
اسلام آباد میں پیر کو پٹرولیم ڈویژن کا اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے اجلاس کی صدارت کی۔ عالمی بینک کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار بھی اجلاس میں شریک ہوئیں۔
اجلاس میں پاکستان کے گیس شعبے میں اصلاحات کے روڈ میپ کا جائزہ لیا گیا۔ پٹرولیم ڈویژن نے عالمی بینک کی تکنیکی معاونت سے یہ فریم ورک تیار کیا ہے۔ اس کا مقصد گیس مارکیٹ کو زیادہ مسابقتی اور مؤثر بنانا ہے۔
مجوزہ اصلاحات میں اوگرا کا کردار مزید مضبوط بنانے کی تجویز شامل ہے۔ اوگرا مسابقت، مارکیٹ مانیٹرنگ اور شفاف تجارتی سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا۔ اصلاحات کے تحت گیس مارکیٹ کے لیے مضبوط ریگولیٹری نظام تشکیل دیا جائے گا۔
منصوبے میں سوئی گیس کمپنیوں کی تنظیم نو کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کے مختلف کاروباری شعبے الگ کیے جائیں گے۔ اس اقدام سے نجی شعبے کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔
وزیر پٹرولیم نے کہا کہ ڈی ریگولیشن کے بعد مضبوط نگرانی ضروری ہوگی۔ انہوں نے شفافیت، کارکردگی اور صارفین کے تحفظ پر زور دیا۔ ان کے مطابق نئی مارکیٹ میں مسابقت کے ساتھ مالی پائیداری بھی ضروری ہے۔
حکومت موجودہ گیس سبسڈی نظام میں بھی تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ مجوزہ اصلاحات میں سبسڈی کو زیادہ ہدفی بنانے کی تجویز ہے۔ محفوظ صارفین کی کیٹیگری کی بھی ازسرنو تعریف کی جائے گی۔
حکام طویل مدت میں گیس کے لیے ایک واحد مارکیٹ کلیئرنگ قیمت چاہتے ہیں۔ اس اقدام سے مختلف صارفین کے لیے قیمتوں میں موجود بگاڑ کم ہوسکتا ہے۔ تاہم اس تبدیلی کے لیے قانونی اور ریگولیٹری فیصلے ضروری ہوں گے۔
پاکستان کا گیس شعبہ پہلے ہی طلب اور رسد کے دباؤ کا شکار ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق گیس کی اوسط کھپت 3,143 ایم ایم سی ایف ڈی رہی۔ جولائی تا مارچ کے دوران آر ایل این جی کی اوسط کھپت تقریباً 798 ایم ایم سی ایف ڈی تھی۔
اسی عرصے میں بجلی کا شعبہ گیس کا سب سے بڑا صارف رہا۔ بجلی کے شعبے نے اوسطاً 973 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کی۔ گھریلو صارفین نے 777 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کی۔
فرٹیلائزر شعبے کی اوسط گیس کھپت 764 ایم ایم سی ایف ڈی رہی۔ یہ اعدادوشمار گیس کی محدود دستیابی پر دباؤ ظاہر کرتے ہیں۔ گھریلو، بجلی، فرٹیلائزر اور صنعتی صارفین ایک ہی نظام پر انحصار کرتے ہیں۔
حکومت گیس شعبے کے مالی مسائل کم کرنے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ جنوری 2026 میں حکام نے گیس سرکلر ڈیٹ کے بہاؤ میں کمی کا دعویٰ کیا تھا۔ ایس این جی پی ایل کے یو ایف جی نقصانات بھی اصلاحات کے دوران کم ہوئے۔
حکام کے مطابق ایس این جی پی ایل کے یو ایف جی نقصانات نو فیصد سے پانچ فیصد ہوگئے۔ ایس ایس جی سی ایل کے نقصانات بھی 17 فیصد سے کم ہوکر 10 فیصد ہوگئے۔ یو ایف جی میں کمی سوئی کمپنیوں کی مالی کارکردگی بہتر بناسکتی ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈ بھی پاکستان کے گیس شعبے میں اصلاحات پر زور دیتا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق گیس ٹیرف میں لاگت کی وصولی کے مطابق ایڈجسٹمنٹ جاری رہی۔ گیس سرکلر ڈیٹ کے آڈٹ شدہ اعدادوشمار بھی مرتب کیے گئے ہیں۔
عالمی بینک پہلے بھی پاکستان میں گیس مارکیٹ اصلاحات کی حمایت کرچکا ہے۔ بینک نے کراس سبسڈی ختم کرنے اور ٹیرف اصلاحات کی سفارش کی تھی۔ اس نے گیس ٹرانسپورٹ اور ڈاؤن اسٹریم سپلائی کے افعال الگ کرنے کی حمایت بھی کی۔
دسمبر 2025 میں عالمی بینک نے پاکستان کے گیس اصلاحاتی روڈ میپ کی حمایت کی تھی۔ اس تعاون میں سوئی کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے پر بھی توجہ شامل تھی۔ کمپنیوں کی ممکنہ ان بنڈلنگ اصلاحات کا اہم حصہ قرار دی گئی ہے۔
پاکستان نے توانائی کے دیگر شعبوں میں بھی ڈی ریگولیشن آگے بڑھائی ہے۔ جولائی 2026 میں پٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں کے نظام کی طرف پیش رفت ہوئی۔ حکومت کے مطابق اس اقدام سے شفافیت اور مسابقت بہتر ہوسکتی ہے۔
گیس اصلاحات میں گیس مارکیٹ ارتقا منصوبہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرمایہ کاری کا روڈ میپ اور شعبے کا مالیاتی ماڈل تیار کیا جائے گا۔ قانونی اور ریگولیٹری معاملات کا تفصیلی جائزہ بھی اصلاحاتی پیکیج میں شامل ہے۔
اوگرا کی ادارہ جاتی استعداد بڑھانے کے لیے خصوصی پروگرام بھی تجویز کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ریگولیٹر کو مسابقتی گیس مارکیٹ کی نگرانی کے قابل بنانا ہے۔ مؤثر نگرانی اصلاحات کی کامیابی کے لیے اہم سمجھی جارہی ہے۔
وزیر پٹرولیم نے حتمی روڈ میپ وزیراعظم کو پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ پٹرولیم ڈویژن اگست 2026 کے اختتام تک سفارشات مکمل کرے گا۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد اصلاحات مرحلہ وار نافذ کی جائیں گی۔
حکومت کے مطابق اصلاحات سے توانائی سکیورٹی بہتر ہونے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ کراس سبسڈی کا بوجھ کم ہوسکتا ہے۔ صنعتی صارفین کے لیے قیمتوں میں زیادہ شفافیت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔
نجی شعبے کی شمولیت سے گیس ویلیو چین میں سرمایہ کاری بڑھنے کی توقع ہے۔ تلاش، پیداوار، مارکیٹنگ اور گیس ٹریڈنگ میں نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ اصلاحات روزگار اور طویل مدتی اقتصادی سرگرمی کو بھی فروغ دے سکتی ہیں۔
تاہم گیس ڈی ریگولیشن کے دوران صارفین کا تحفظ اہم چیلنج رہے گا۔ قیمتوں میں تبدیلی کا اثر گھریلو اور صنعتی صارفین دونوں پر پڑے گا۔ مؤثر ریگولیشن اور شفاف مارکیٹ قواعد اصلاحات کی کامیابی طے کریں گے۔
پاکستان کا گیس شعبہ اب مالی پائیداری اور مارکیٹ اصلاحات کے اہم مرحلے میں داخل ہے۔ پاکستان کا گیس ڈی ریگولیشن روڈ میپ قیمتوں، مسابقت اور سرمایہ کاری کی سمت متعین کرے گا۔
UrduLead UrduLead