منگل , اگست 4 2026

جگر کی بیماریاں برسوں تک خاموشی سے بڑھتی ہیں

ماہرینِ امراضِ جگر نے خبردار کیا ہے کہ جگر کی بیماریاں برسوں تک خاموشی سے بڑھتی رہتی ہیں اور بیشتر افراد کو اس وقت تک اپنی بیماری کا علم نہیں ہوتا جب تک جگر شدید متاثر نہ ہو جائے۔

ماہرین کے مطابق جگر میں درد محسوس کرنے والے اعصابی ریشے موجود نہیں ہوتے، جبکہ یہ عضو اپنی حیرت انگیز صلاحیت کے باعث 70 سے 80 فیصد تک متاثر ہونے کے باوجود بھی معمول کے مطابق کام کرتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیٹی لیور اور جگر کی دیگر بیماریاں 10 سے 30 سال تک بغیر کسی واضح علامت کے بڑھ سکتی ہیں، جس کے باعث بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں مریض جگر کے ناکارہ ہونے، سروسس اور بالآخر جگر کی پیوندکاری تک کی نوبت تک پہنچ سکتا ہے۔

فیٹی لیور کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ

اندازوں کے مطابق 30 سے 40 فیصد بالغ افراد فیٹی لیور کا شکار ہیں۔ اس بیماری کو اب میٹابولک ڈس فنکشن ایسوسی ایٹڈ اسٹیٹیوٹک لیور ڈیزیز (MASLD) کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ جسمانی میٹابولزم میں خرابی ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری جگر کی سوزش، فائبروسس، سروسس اور جگر کے مکمل ناکارہ ہونے کا باعث بن سکتی ہے۔

نوجوان بھی خطرے کی زد میں

ڈاکٹرز کے مطابق یہ بیماری اب صرف عمر رسیدہ افراد تک محدود نہیں رہی، بلکہ موٹاپے، ذیابیطس اور میٹابولک سنڈروم کے باعث نوجوانوں میں بھی جگر کے امراض تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ایسے نوجوان بھی متاثر ہو رہے ہیں جو نہ شراب نوشی کرتے ہیں اور نہ ہی موٹاپے کا شکار ہیں، تاہم زیادہ چینی والی غذائیں، غیر معیاری جِم سپلیمنٹس، نیند کی کمی اور ذہنی دباؤ ان کے جگر کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

زیادہ خطرہ کن افراد کو ہے؟

ماہرین کے مطابق ٹائپ ٹو ذیابیطس، موٹاپا، بلند کولیسٹرول اور غیر متحرک طرزِ زندگی رکھنے والے افراد میں فیٹی لیور کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے، اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے تقریباً 60 فیصد مریض اس بیماری کا شکار پائے جاتے ہیں۔

کن علامات کو نظر انداز نہ کریں

ماہرین نے بتایا کہ مسلسل تھکن، بلاوجہ وزن میں کمی، بھوک میں کمی اور پیٹ میں درد جیسی علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، جبکہ جلد یا آنکھوں کا زرد ہونا، پیشاب کا گہرا رنگ اور جسم میں سوجن جیسی علامات کو فوری طبی توجہ کا متقاضی قرار دیا گیا۔

بروقت تشخیص سے بچاؤ ممکن

ماہرین کے مطابق ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہونے کی صورت میں جگر کی بیماریوں کی رفتار کو سست کیا جا سکتا ہے اور بعض اوقات نقصان کو جزوی طور پر واپس بھی لایا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں وزن میں کمی، ذیابیطس اور کولیسٹرول پر قابو، متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش کو اہم قرار دیا گیا۔

ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ خطرے سے دوچار افراد سال میں کم از کم ایک بار جگر کے فنکشن ٹیسٹ، بلڈ شوگر، کولیسٹرول پروفائل اور فائبرو اسکین ضرور کروائیں، کیونکہ جگر خود کبھی خبردار نہیں کرتا اور باقاعدہ اسکریننگ ہی اس بیماری سے بچاؤ کی سب سے مؤثر حکمت عملی ہے۔

نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پیٹرول سستا، ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی

نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے