منگل , اگست 4 2026

نئی امریکی ویزا پالیسی: پاکستان شامل نہیں

امریکہ کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے ویزا بانڈ پروگرام کی فہرست میں شامل 50 ممالک میں پاکستان کا نام شامل نہیں، جس کے تحت منتخب درخواست گزاروں کو امریکی وزیٹر ویزا کے حصول کے لیے 20 ہزار ڈالر تک مالی ضمانت جمع کروانا ہوگی۔

امریکی فیڈرل رجسٹر میں شائع ہونے والی فہرست کے مطابق جنوبی ایشیائی ممالک میں بنگلہ دیش اور نیپال اس پروگرام کے دائرہ کار میں شامل ہیں، جبکہ بھارت اور پاکستان دونوں اس فہرست سے باہر ہیں۔ افغانستان اور ایران کو بھی اس پروگرام میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ امریکہ کے ان دونوں ممالک کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ 2025 کے پائلٹ پروگرام کے جائزے کے بعد کیا گیا، جس کے نتیجے میں شریک ممالک سے آنے والے مسافروں میں ویزا کی معیاد ختم ہونے کے بعد قیام (اوور اسٹے) کے واقعات میں نمایاں کمی اور امیگریشن قوانین کی تعمیل میں بہتری دیکھی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہی نتائج کی بنیاد پر واشنگٹن نے اس پروگرام کو مستقل قرار دینے کا فیصلہ کیا۔

محکمہ خارجہ کے مطابق 2024 میں ان 50 ممالک سے 45 ہزار 488 افراد نے ویزا کی معیاد کے بعد بھی قیام جاری رکھا تھا، جبکہ پائلٹ پروگرام کے پہلے 10 ماہ کے دوران یہ تعداد 50 سے بھی کم رہی۔ ویزا بانڈ کی شرط کے باعث ویزوں کے اجرا میں بھی کمی دیکھی گئی، کیونکہ بعض درخواست گزاروں نے ضمانتی رقم ادا کرنے کے بجائے خود کو اس عمل سے الگ کر لیا۔

ڈان اخبار سے بات کرتے ہوئے سفارتی ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان اس پروگرام کے دائرہ کار میں شامل ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

یہ پروگرام بی ون کاروباری اور بی ٹو سیاحتی ویزا کے حصول کے خواہشمند ان درخواست گزاروں پر لاگو ہوگا جن کا تعلق فہرست میں شامل ممالک سے ہو۔ نئے قوانین کے تحت امریکی قونصلر افسران منتخب درخواست گزاروں سے ویزا جاری کرنے سے قبل 10 ہزار سے 20 ہزار ڈالر کے درمیان قابل واپسی ضمانتی رقم طلب کر سکیں گے۔

یہ نئے ضوابط دراصل 2025 میں شروع کیے گئے ویزا بانڈ پائلٹ پروگرام کو مستقل حیثیت دیتے ہیں، جسے امریکی محکمہ خارجہ نے ویزا کی معیاد کے بعد قیام میں کمی لانے میں معاون قرار دیا تھا۔ نئے قوانین کے تحت زیادہ سے زیادہ ضمانتی رقم کی حد 15 ہزار ڈالر سے بڑھا کر 20 ہزار ڈالر کر دی گئی ہے، جبکہ پائلٹ پروگرام کے دوران دستیاب 5 ہزار ڈالر کی کم از کم حد بھی ختم کر دی گئی ہے۔

اس پروگرام کے دائرہ کار میں شامل 50 ممالک میں افریقہ کے 30 ممالک کے علاوہ ایشیا، کیریبین اور بحرالکاہل کے خطے کے ممالک بھی شامل ہیں۔

اگر کوئی مسافر ویزا کی تمام شرائط پر عمل کرتے ہوئے مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے امریکہ چھوڑ دیتا ہے تو یہ ضمانتی رقم اسے واپس کر دی جائے گی۔ تاہم جو درخواست گزار ویزا کی معیاد کے بعد بھی قیام جاری رکھیں گے یا ویزا کی دیگر شرائط کی خلاف ورزی کریں گے، انہیں یہ رقم ضبط ہونے کا خدشہ رہے گا۔

واضح رہے کہ ضمانتی رقم کی شرط فہرست میں شامل ممالک کے تمام درخواست گزاروں پر خودکار طور پر لاگو نہیں ہوگی، بلکہ امریکی قونصلر افسران ہر کیس کا الگ الگ جائزہ لے کر یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا ویزا جاری کرنے سے قبل ضمانتی رقم کی طلب ضروری ہے یا نہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پیٹرول سستا، ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی

نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے