
امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزوں (یعنی مستقل رہائش کے ویزوں) کی پروسیسنگ معطل کر دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ وزیر خارجہ مارکو روبیو کی قیادت میں کیا گیا ہے اور یہ 21 جنوری سے نافذ العمل ہوگا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام ڈیٹا پر مبنی ہے اور اس کا مقصد ان لوگوں کو داخلے سے روکنا ہے جو امریکہ میں میڈیکیڈ، فوڈ اسسٹنس یا دیگر پبلک بینیفٹس پر انحصار کرنے کا امکان رکھتے ہیں۔
یہ پالیسی “پبلک چارج” قوانین کو نافذ کرنے کا حصہ ہے جو نومبر میں سخت کیے گئے تھے۔معطل کیے گئے ویزے صرف امیگرنٹ ویزوں تک محدود ہیں جو گرین کارڈ یا مستقل رہائش کا باعث بنتے ہیں۔ ٹورسٹ، سٹوڈنٹ اور عارضی ورک ویزوں پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
اس فیصلے سے 2026 فیفا ورلڈ کپ کے لیے فینز کی آمد متاثر نہیں ہوگی، کیونکہ ان کے لیے نان امیگرنٹ ویزے دستیاب رہیں گے۔
متاثرہ ممالک میں صومالیہ، روس، ایران، برازیل، افغانستان، مصر، پاکستان، نائیجیریا، ہیٹی اور دیگر افریقی، ایشیائی، لاطینی امریکی اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک شامل ہیں (کل 75 ممالک کی فہرست جاری کی گئی ہے)۔
حامی اسے “امریکہ فرسٹ” پالیسی قرار دے کر تعریف کر رہے ہیں جو امریکی ٹیکس پیئرز کے وسائل کے تحفظ کا ذریعہ ہے، جبکہ ناقدین اسے وسیع پیمانے پر اور امتیازی سمجھ رہے ہیں۔
یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے قانونی امیگریشن کو محدود کرنے کی تازہ ترین کوشش ہے۔
UrduLead UrduLead