جمعرات , مارچ 12 2026

سوشل میڈیا ڈیٹا: نیا انٹیلی جنس یونٹ قائم

اسرائیلی فوج نے ایران سے کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا اور عوامی معلومات کے تجزیے کے لیے نیا اوپن سورس انٹیلی جنس یونٹ قائم کیا ہے جو ایرانی سرگرمیوں کی نگرانی میں مدد دے رہا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا اور عوامی معلومات کے استعمال کو بڑھاتے ہوئے اوپن سورس انٹیلی جنس کا خصوصی یونٹ قائم کر دیا ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے فوجی اور سکیورٹی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہے۔ یہ یونٹ اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ امان کے تحت کام کر رہا ہے اور حکام کے مطابق اسے موجودہ سکیورٹی صورتحال میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئے شعبے کا بنیادی کام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، روایتی میڈیا، ٹیلی گرام چینلز اور دیگر عوامی ذرائع میں موجود بڑی مقدار میں معلومات کو جمع کر کے ان کا فوری تجزیہ کرنا ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ جدید دور میں بڑی تعداد میں اہم معلومات کھلے عام دستیاب ہوتی ہیں لیکن ان کو درست انداز میں سمجھنے اور قابل استعمال انٹیلی جنس میں تبدیل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس یونٹ کی نگرانی امان کے سربراہ میجر جنرل شلومی بنڈر کر رہے ہیں اور اسرائیلی فوج کے مطابق یہ شعبہ اب انٹیلی جنس نظام کا مستقل حصہ بنتا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق ایران کے اندر ہونے والی فوجی نقل و حرکت، میزائل سرگرمیوں اور حملوں کے بعد کی صورتحال کو سمجھنے میں سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز اور تصاویر انتہائی مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ عام شہریوں کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز میں موجود بصری نشانات، عمارتیں، سڑکیں اور ڈیجیٹل معلومات کا تجزیہ کر کے کسی مقام کی درست نشاندہی اور وقت کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ اوپن سورس انٹیلی جنس کو روایتی ذرائع جیسے سیٹلائٹ تصاویر، سگنل انٹیلی جنس اور انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ صورتحال کی مکمل اور درست تصویر سامنے آ سکے۔ بعض مواقع پر موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیوز کی مدد سے میزائل لانچرز کی نقل و حرکت یا فضائی حملوں کے نتائج کی تصدیق بھی ممکن ہوئی ہے جس سے کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں تیزی آئی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق دنیا بھر کی افواج اب اوپن سورس انٹیلی جنس پر تیزی سے انحصار کر رہی ہیں۔ نیٹو اور امریکی دفاعی اداروں کی رپورٹس کے مطابق جدید جنگوں میں سوشل میڈیا، سیٹلائٹ ڈیٹا اور عوامی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات فیصلہ سازی میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ 2020 کے بعد کئی فوجی آپریشنز میں اوپن سورس ڈیٹا کو باقاعدہ انٹیلی جنس نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔

ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں اور داخلی کشیدگی کے بعد اسرائیلی انٹیلی جنس نے اپنی توجہ خاص طور پر ایرانی صورتحال پر مرکوز کر دی ہے۔ حکام کے مطابق عوامی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے ذریعے نہ صرف فوجی سرگرمیوں بلکہ سیاسی ماحول، عوامی ردعمل اور ممکنہ حکومتی فیصلوں کے بارے میں بھی ابتدائی اشارے مل سکتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نئے یونٹ کو ابتدائی وارننگ سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ حملوں یا خطرات کا اندازہ پہلے ہی لگایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق جدید جنگوں میں معلومات کی برتری فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکی ہے اور سوشل میڈیا پر موجود ڈیٹا مستقبل میں انٹیلی جنس نظام کا مستقل حصہ بنتا جا رہا ہے، خاص طور پر ایران سے متعلق سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پی ایم ڈی سی کا طلبہ رجسٹریشن لازمی قرار

پی ایم ڈی سی نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کو ہر طالبعلم کی بروقت رجسٹریشن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے