جمعہ , جون 12 2026

18.8 کھرب روپے کا وفاقی بجٹ پیش

تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کا 18.8 کھرب روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا، جس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا اور ایوان میں نعرے بازی کی۔

وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران ملکی معیشت کی شرح نمو 4 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ اوسط مہنگائی 8.2 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی خسارہ جی ڈی پی کے 3.6 فیصد اور پرائمری سرپلس 2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 17.6 فیصد زیادہ ہے۔ وفاقی حکومت کی غیر ٹیکس آمدن 5 ہزار 336 ارب روپے جبکہ خالص وفاقی آمدن 11 ہزار 751 ارب روپے رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار 45 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو بجٹ کا سب سے بڑا خرچ ہے۔ دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے جبکہ سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے ایک ہزار 71 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ایک نئے مالیاتی طریقہ کار پر اتفاق ہوا ہے جس کے تحت صوبے قومی نوعیت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 8 ہزار 848 ارب روپے فراہم کریں گے، تاہم این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے آئینی حقوق اور حصے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سرکاری اداروں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کو شامل کرنے کے بعد ترقیاتی اخراجات کا حجم ایک ہزار 451 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔ صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ہزار 224 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ نے تنخواہ دار طبقے کے لیے اہم ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ مختلف آمدنی کے درجوں پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدن والوں کے لیے ٹیکس شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد، 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے آمدن والوں کے لیے 30 فیصد سے 25 فیصد، 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے آمدن والوں کے لیے 35 فیصد سے 29 فیصد اور 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے آمدن والوں کے لیے 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ختم کرنے اور 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے۔ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

بجٹ میں سینیٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافے جبکہ کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے مجموعی طور پر 280 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پنشن کی ادائیگیوں کے لیے ایک ہزار 169 ارب روپے جبکہ بجلی اور دیگر شعبوں میں سبسڈی کے لیے ایک ہزار 91 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے اپنی تقریر میں گزشتہ دو برسوں کی معاشی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 6.1 فیصد اور خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ فی کس آمدنی بڑھ کر ایک ہزار 901 ڈالر ہو گئی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جو تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔

وزیر خزانہ کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 10.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ مالی خسارہ نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان نے قومی اسمبلی میں سندھ کو پانی کے حصے کی فراہمی کے مطالبے پر احتجاج کیا۔ پیپلز پارٹی کے ارکان نے سندھ میں 48 فیصد پانی کی قلت کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے احتجاجی بینرز اٹھائے اور نعرے بازی کی۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جن کی شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی تھی، آخرکار بجٹ اجلاس میں شریک ہوئے۔ پارٹی قیادت نے قومی مفاد میں بجٹ عمل کا حصہ بننے کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ صوبوں کے حقوق اور سیاسی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔

وفاقی بجٹ اب قومی اسمبلی میں تفصیلی بحث کے بعد منظوری کے مراحل سے گزرے گا، جہاں ارکان مختلف مالیاتی اور ترقیاتی تجاویز کا جائزہ لیں گے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پنجاب میں مفت سفر کی سہولت ختم

پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی جانب سے کرایوں کے نفاذ کی تاریخ اور تفصیلی شیڈول …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے