
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے سے وابستہ ممتاز ماہرین اور محققین نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں اے آئی کا سب سے بڑا خطرہ سائبر حملے نہیں بلکہ ایسے مہلک حیاتیاتی جراثیم (پیتھوجنز) کی تیاری ہو سکتا ہے جو تیزی سے پھیل کر بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اے آئی کمپنیوں کے سربراہان اور ماہرین سے نجی ملاقاتوں میں جب سب سے بڑے خطرے کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو زیادہ تر کا جواب ایک ہی ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کسی بد نیت فرد یا گروہ کو ایسا مہلک جرثومہ تیار کرنے میں مدد دے سکتی ہے جسے بروقت روکنا انتہائی مشکل ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ منظرنامہ فوری طور پر متوقع نہیں، تاہم جیسے جیسے اے آئی ماڈلز حیاتیات، جینیات اور انسانی جسم کے پیچیدہ نظام کو بہتر انداز میں سمجھنے لگیں گے، ویسے ویسے ان کے غلط استعمال کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
حال ہی میں ایم آئی ٹی فیوچر ٹیک اور آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ کی مشترکہ تحقیق میں 272 اے آئی محققین نے مصنوعی ذہانت سے وابستہ 24 بڑے خطرات کا جائزہ لیا۔ تحقیق کے مطابق 2030 تک اے آئی کی خطرناک صلاحیتوں کے باعث کسی بڑے تباہ کن واقعے کا امکان 12 فیصد جبکہ اے آئی سے تیار کیے گئے ہتھیاروں یا بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے والی ٹیکنالوجی کا امکان بھی تقریباً 12 فیصد قرار دیا گیا ہے۔
تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اندازے حفاظتی اقدامات کو مدنظر رکھ کر لگائے گئے ہیں۔ اگر مناسب حفاظتی نظام موجود نہ ہوں تو یہ خطرہ 20 فیصد سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔ محققین نے “تباہ کن واقعہ” سے مراد ایسے حالات لیے ہیں جن میں 10 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوں یا 100 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہو۔
ماہرین کے مطابق اے آئی مستقبل میں انسانی جسم کی کمزوریوں کا تجزیہ کر کے ایسے جینیاتی تغیرات کی نشاندہی کر سکتی ہے جو کسی وائرس یا بیکٹیریا کو زیادہ متعدی، علاج کے خلاف زیادہ مزاحم یا تشخیص سے بچنے کے قابل بنا دیں۔
رپورٹ کے مطابق جدید جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کی تیزی سے ترقی اور اس کی لاگت میں کمی بھی اس خطرے میں اضافہ کر رہی ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ تجاویز کو عملی شکل دینا پہلے کے مقابلے میں آسان ہو سکتا ہے۔
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین، اینتھروپک کے ڈاریو امودی، گوگل ڈیپ مائنڈ کے ڈیمس ہاسابِس، مائیکروسافٹ کے مصطفیٰ سلیمان اور میٹا کے الیگزینڈر وانگ سمیت کئی عالمی ٹیکنالوجی رہنماؤں نے حال ہی میں ایک مشترکہ خط پر دستخط کرتے ہوئے اے آئی سے ممکنہ حیاتیاتی خطرات پر تشویش ظاہر کی اور حکومتوں سے مزید حفاظتی اقدامات اور مؤثر ضوابط وضع کرنے کا مطالبہ کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بڑی اے آئی کمپنیاں اپنے جدید ماڈلز میں حفاظتی پابندیاں شامل کر رہی ہیں، لیکن اوپن سورس ماڈلز کے تیزی سے پھیلاؤ نے نئے خدشات کو جنم دیا ہے، کیونکہ انہیں کوئی بھی شخص اپنی ضرورت کے مطابق تبدیل کر کے ریگولیٹری نگرانی سے باہر استعمال کر سکتا ہے۔
تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد سے انکار ممکن نہیں، تاہم اس کی ترقی کے ساتھ ساتھ مؤثر نگرانی، مضبوط حفاظتی نظام، بین الاقوامی تعاون اور ذمہ دارانہ ضابطہ سازی ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات کو بروقت روکا جا سکے۔
UrduLead UrduLead