
خلیجی کشیدگی کے باعث قطر کی جانب سے مارچ 2026 سے نافذ قطر ایل این جی بحران تاحال مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا، تاہم پاکستان کو سفارتی کوششوں کے نتیجے میں محدود پیمانے پر ایل این جی کی ترسیل جاری ہے۔
تازہ ترین پیش رفت میں راس لفان سے روانہ ہونے والا بحری جہاز المرونہ سات ستمبر کو آبنائے ہرمز سے کامیابی سے گزرا اور بندرگاہ قاسم (اینگرو ٹرمینل) کی جانب رواں دواں ہے، جہاں اس کی آمد متوقع 10 ستمبر بتائی جا رہی ہے۔
پس منظر: کیسے شروع ہوا بحران؟
قطر انرجی نے مارچ 2026 کے اوائل میں فورس میژر (ناگزیر حالات) کا اعلان کیا تھا، جب ایران سے متعلق تنازع کے باعث فروری کے آخر سے شروع ہونے والی کشیدگی میں راس لفان ایل این جی کمپلیکس پر حملوں سے تنصیبات کو نقصان پہنچا اور آبنائے ہرمز سے بحری ترسیل شدید متاثر ہوئی۔ اس کے نتیجے میں قطر کی ایل این جی برآمدی صلاحیت میں ابتدائی طور پر تقریباً 17 فیصد کمی واقع ہوئی اور متعدد ترسیلات منسوخ کرنا پڑیں۔
فورس میژر کا اعلان ہر ماہ توسیع کے ساتھ برقرار رکھا جا رہا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز سے ایل این جی ترسیل کی مکمل اور محفوظ بحالی تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان کے لیے منسوخیوں کا سلسلہ اکتوبر تک جاری رہنے کا امکان ہے، بنگلہ دیش کے لیے یہ توسیع ستمبر کے بعد تک بڑھائی گئی ہے، جبکہ یورپی خریدار ایڈیسن کے لیے فورس میژر نومبر کے اوائل تک برقرار رہے گا جس سے متعدد ترسیلات متاثر ہوں گی۔
پاکستان کے لیے مخصوص انتظام
پاکستان اپنی ایل این جی ضروریات کے لیے 90 فیصد سے زائد انحصار قطر پر رکھتا ہے، جو ایک طویل مدتی معاہدے کے تحت برینٹ خام تیل کی قیمت کے تقریباً 13.37 فیصد کے حساب سے طے پاتا ہے۔
اسی اہمیت کے پیش نظر پاکستان نے اپنے ثالثی کردار کو بروئے کار لاتے ہوئے ایران کی منظوری سے محدود اور مخصوص محفوظ راستوں کا بندوبست کیا ہے، جو عام طور پر ایرانی ساحل کے قریب شمالی راستے سے ہو کر گزرتے ہیں۔ اس انتظام کے تحت مئی اور جون میں الخرائطیات، محزم، فویرت، لبریتہ اور مرائخ سمیت متعدد جہاز کامیابی سے گزر چکے ہیں، جبکہ اگست میں الاریش بھی راستہ تبدیل کرنے کے بعد پہنچا۔
جولائی میں ایک ٹینکر پر حملے کے بعد خطرات میں اضافے کے باعث ترسیل کی رفتار دوبارہ سست ہو گئی تھی۔
سوشل میڈیا اور صارفین کا ردعمل
توانائی کے شعبے سے وابستہ حلقوں اور صارفین نے سوشل میڈیا پر المرونہ کی کامیاب آمد کو عارضی ریلیف قرار دیتے ہوئے خیرمقدم کیا، تاہم بجلی کے شدید بحران اور طویل لوڈشیڈنگ کے پیش نظر بعض صارفین نے مستقل حل کا مطالبہ بھی کیا۔
کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید خراب ہوئی تو ملک اپنی توانائی ضروریات کیسے پوری کرے گا، جبکہ کچھ نے متبادل ذرائع اور اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری پر انحصار کم کرنے کی تجویز دی۔
ماہرین کا تجزیہ
توانائی امور کے ماہرین کے مطابق قطر ایل این جی بحران کے باعث عالمی منڈی میں طلب و رسد کا توازن بگڑا ہے، جس سے قیمتوں میں اضافہ ہوا اور خریدار ممالک اسپاٹ مارکیٹ یا متبادل ذرائع کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہوئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے حالیہ محدود ترسیلات بجلی کے شعبے کو، جو چھ سے بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کر چکا ہے، عارضی سہارا فراہم کریں گی، لیکن یہ مکمل بحالی کا متبادل نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کو طویل مدتی اور اسپاٹ دونوں معاہدوں میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ مارکیٹ کی سختی کے باعث اسپاٹ ٹینڈرز مہنگے یا ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔
ماہرین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹرمینل کی گنجائش کے چارجز بہرصورت جاری رہتے ہیں، چاہے ترسیل معمول کے مطابق ہو یا نہ ہو، جس سے مالی دباؤ مزید بڑھتا ہے۔ ایران اور عمان کے مابین عارضی محفوظ راستوں سے متعلق بات چیت بھی جاری ہے، تاہم ابھی تک کوئی مکمل حل سامنے نہیں آیا۔
UrduLead UrduLead