جمعرات , ستمبر 10 2026

ڈینگی بخار سے بچاؤ: ماہرین کی جانب سے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی اپیل

ڈینگی سے بچاؤ کے لیے مچھر دانی استعمال

ملک بھر میں مون سون کے موسم کے بعد ڈینگی بخار کے پھیلاؤ کے خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے پیش نظر محکمہ صحت اور طبی ماہرین نے عوام سے ڈینگی سے بچاؤ کے لیے فوری اور موثر اقدامات اپنانے کی اپیل کی ہے۔

حکام کے مطابق ایڈیز مچھر کی افزائش عام طور پر صاف اور ساکن پانی میں ہوتی ہے، اس لیے گھروں اور گلی محلوں میں پانی جمع نہ ہونے دینا ڈینگی سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔

پس منظر: ہر سال بڑھتا ہوا خطرہ

پاکستان میں ہر سال مون سون کی بارشوں کے بعد ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، خاص طور پر پنجاب کے بڑے شہروں راولپنڈی، لاہور اور اسلام آباد سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں۔

ماضی میں محکمہ صحت پنجاب اور سندھ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ زیادہ تر کیسز گنجان آباد شہری بستیوں سے رپورٹ ہوتے ہیں جہاں پانی جمع ہونے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہر سال محکمہ صحت کی جانب سے فوگنگ مہمات اور گھر گھر سروے کروائے جاتے ہیں تاکہ ڈینگی لاروا کی بروقت نشاندہی اور تلفی ممکن ہو سکے۔

ڈینگی سے بچاؤ کیوں ضروری ہے؟

طبی حکام کا کہنا ہے کہ ڈینگی سے بچاؤ کے لیے انفرادی سطح پر احتیاط اجتماعی مہمات سے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے، کیونکہ ایک گھر میں جمع پانی سینکڑوں مچھروں کی افزائش کا باعث بن سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل

سوشل میڈیا صارفین نے ڈینگی کے موسمی خطرے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر صارفین محلوں میں فوگنگ نہ ہونے، گندگی کے ڈھیر اور کھلے نالوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

کئی صارفین نے اپنے تجربات شیئر کیے کہ کس طرح گھر میں چند دنوں کے لیے رکھے گئے کولر یا گملوں کے پانی نے ڈینگی لاروا کو جنم دیا، جبکہ کچھ نے دیگر شہریوں کو مچھر دانی اور جسم ڈھانپنے والے کپڑے استعمال کرنے کی تجویز دی۔

ماہرین کا تجزیہ

طبی ماہرین کے مطابق ڈینگی بخار کی علامات میں تیز بخار، شدید سر درد، آنکھوں کے پیچھے درد، جوڑوں اور پٹھوں میں درد، جِلد پر سرخ دھبے اور بعض صورتوں میں مسوڑھوں یا ناک سے خون آنا شامل ہیں۔

ماہرین زور دیتے ہیں کہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں خود علاجی کے بجائے فوری طور پر مستند معالج سے رجوع کیا جائے، کیونکہ بروقت تشخیص اور علاج سے شدید پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ ماہرین نے ڈینگی سے بچاؤ کے حوالے سے درج ذیل تدابیر تجویز کی ہیں:

  • گھر، صحن اور چھت پر کسی بھی برتن، ٹائر، گملے یا کولر میں پانی جمع نہ ہونے دیں۔
  • مکمل آستین کے کپڑے پہنیں اور بچوں کو خصوصی طور پر مچھروں سے محفوظ رکھیں۔
  • کھڑکیوں اور دروازوں پر جالی نصب کریں اور رات کو سوتے وقت مچھر دانی استعمال کریں۔
  • مچھر بھگانے والے لوشن، اسپرے یا کوائل کا استعمال کریں، خصوصاً صبح اور شام کے اوقات میں۔
  • گھر کے اردگرد صفائی رکھیں اور محکمہ صحت کی فوگنگ ٹیموں سے تعاون کریں۔
  • بخار کی صورت میں پانی کی مقدار زیادہ رکھیں اور بغیر ڈاکٹری مشورے کے درد کش ادویات، خصوصاً اسپرین، استعمال نہ کریں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

Petroleum Ministry announces Increase in POL prices for Sept 10

پیٹرول 3.40، ڈیزل 6.72 روپے فی لیٹر مہنگا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کردیا، نئی قیمتوں کا اطلاق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے