
جڑواں شہر زیرِ آب، تعلیمی ادارے بند
منگل کے روز راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، متعدد شاہراہیں پانی میں ڈوب گئیں اور نالہ لئی میں طغیانی کا خطرہ پیدا ہو گیا، جس کے باعث ضلعی انتظامیہ نے احتیاطی تدبیر کے طور پر تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا اعلان کر دیا۔
راولپنڈی کے سرکاری و نجی تعلیمی ادارے منگل کے روز بند رہے جبکہ موسلادھار بارش نے جڑواں شہروں کے نشیبی علاقوں کو زیرِ آب کر دیا اور شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق نالہ لئی میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پس منظر اور مجموعی صورتحال
پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) کے مطابق نالہ لئی میں پانی کی سطح کٹاریاں کے مقام پر 29 فٹ جبکہ گوالمنڈی کے مقام پر 23.5 فٹ تک پہنچ گئی۔
صبح آٹھ بجے تک کے اعداد و شمار کے مطابق سیدپور میں 104 ملی میٹر، گولڑہ میں 157 ملی میٹر، بوکرہ میں 72 ملی میٹر، ایچ ایٹ کے قریب پی ایم ڈی سائٹ پر 155 ملی میٹر، کچہری میں 74 ملی میٹر، شمس آباد میں 201 ملی میٹر، پیر ودھائی میں 86 ملی میٹر اور نیو کٹاریاں میں 186 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق راولپنڈی میں مجموعی طور پر 126 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی۔
اسلام آباد کے کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے جبکہ راول روڈ، ایئرپورٹ روڈ اور اسلام آباد ایکسپریس وے سمیت اہم شاہراہوں پر بارش کا پانی جمع ہونے سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔
حکام نے راول اور کھانپور ڈیموں میں پانی کی سطح بڑھنے پر ہائی الرٹ جاری کر دیا۔ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت خصوصاً سیکٹر ای الیون میں تقریباً 150 ملی میٹر بارش کے باعث نالیاں ابل پڑیں۔
واضح رہے کہ رواں مون سون سیزن پہلے ہی جانی نقصان کا باعث بن چکا ہے۔ قومی ادارہ برائے آفات کے مطابق موجودہ مون سون سیزن میں اب تک بارش سے متعلقہ حادثات میں 155 افراد ہلاک اور 460 زخمی ہو چکے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے اسلام آباد، راولپنڈی سمیت مردان، صوابی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور لاہور کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کے خدشے سے خبردار کیا ہے، جبکہ بالائی خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے حساس علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر شہریوں نے بارش اور شہری سیلاب کی ویڈیوز اور تصاویر بڑی تعداد میں شیئر کیں۔ محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر باقاعدہ الرٹس جاری کیے جن میں خبردار کیا گیا کہ شدید بارش نشیبی علاقوں میں پانی جمع کرنے اور مقامی نالوں، خصوصاً نالہ لئی، میں پانی کی سطح بڑھانے کا سبب بن سکتی ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے بھی سوشل میڈیا پر شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کی اپیل کی۔ صارفین نے ٹریفک جام، گاڑیوں کے پانی میں پھنسنے اور بجلی کی بندش کی شکایات بھی آن لائن شیئر کیں، جبکہ کئی صارفین نے ماضی کی طرح انفراسٹرکچر کی ناکامی پر تنقید کی۔ بعض صارفین نے ریسکیو اداروں کی فوری کارروائی کو سراہا۔
ماہرین کی رائے
موسمیاتی ماہرین کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد کا خطہ مارگلہ کی پہاڑیوں سے جڑا ہونے کی وجہ سے قدرتی طور پر اچانک اور شدید بارشوں کا شکار رہتا ہے، جس سے نالہ لئی جیسے آبی گزرگاہوں میں تیزی سے طغیانی آتی ہے۔
واسا حکام کا کہنا ہے کہ نالے میں کچرا پھینکنے اور سیوریج کے ڈھکن ہٹانے جیسے اقدامات نکاسیِ آب کے نظام میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں، اس لیے شہریوں کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ اور ناقص نکاسیِ آب کا نظام ہر مون سون میں تباہی کی شدت بڑھا دیتا ہے، اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے بغیر یہ مسئلہ ہر سال دہرایا جاتا رہے گا۔
اعداد و شمار — ایک نظر میں
| مقام | بارش (ملی میٹر) |
|---|---|
| شمس آباد | 201 |
| نیو کٹاریاں | 186 |
| گولڑہ | 157 |
| ایچ-8/2 (پی ایم ڈی) | 155 |
| سیدپور | 104 |
| پیر ودھائی | 86 |
| کچہری | 74 |
| بوکرہ | 72 |
| نالہ لئی — سطح آب | فٹ |
|---|---|
| کٹاریاں | 29 |
| گوالمنڈی | 23.5 |
UrduLead UrduLead