
یکم ستمبر سے نئی قیمتیں نافذ
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں کمی کر دی ہے۔
وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی جانب سے 31 اگست 2026 کو جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، وفاقی حکومت کے نظرثانی شدہ پیٹرولیم پرائسنگ میکانزم کی بنیاد پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے یکم ستمبر 2026 سے ایکس ڈپو قیمتوں پر نظرثانی کی ہے۔
اس کے تحت پیٹرول (موٹر اسپرٹ) کی قیمت میں 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 342.79 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جو پہلے 342.02 روپے تھی۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 1.03 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 371.44 روپے سے کم ہو کر 370.41 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
قیمتوں میں یومیہ نظرثانی کا سلسلہ
اگست 2026 سے حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین یومیہ بنیادوں پر کر رہی ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں، شرح مبادلہ اور دیگر عوامل کے مطابق مقامی قیمتوں کو فوری طور پر ہم آہنگ رکھنا ہے۔
اس سے قبل 29 اگست کو ہونے والی نظرثانی میں پیٹرول کی قیمت میں 58 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 17 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق تازہ ترین ایڈجسٹمنٹ بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور حکومت کے پرائسنگ میکانزم کے تحت لیے جانے والے دیگر عوامل کا نتیجہ ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم ستمبر سے ہوگا اور یہ صرف ایک روز کے لیے نافذ العمل رہیں گی۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
پیٹرولیم قیمتوں میں معمولی تبدیلی پر عوامی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ ڈیزل کی قیمت میں کمی کو ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے سے وابستہ افراد نے خوش آئند قرار دیا، کیونکہ ڈیزل کی قیمتیں براہِ راست مال برداری اور اجناس کی قیمتوں پر اثرانداز ہوتی ہیں۔
تاہم پیٹرول کی قیمت میں اضافے پر عام صارفین کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا، خصوصاً ایسے وقت میں جب یومیہ نظرثانی کا نظام صارفین کے لیے قیمتوں کے تسلسل کو غیر یقینی بنا رہا ہے۔
ماہرین کا تجزیہ
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یہ متضاد رجحان — ایک میں اضافہ اور دوسرے میں کمی — بین الاقوامی مارکیٹ میں مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی طلب و رسد کے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یومیہ قیمتوں کے تعین کا نظام اگرچہ عالمی منڈی کے حقیقی وقتی رجحانات سے ہم آہنگی پیدا کرتا ہے، تاہم اس سے صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے قلیل مدتی منصوبہ بندی مشکل ہو جاتی ہے۔ روپے کی قدر اور درآمدی لاگت کو بھی قیمتوں کے تعین میں کلیدی عوامل قرار دیا جا رہا ہے۔
UrduLead UrduLead