
صدر زرداری آسٹریا میں، پیپلز پارٹی کی تردید
صدر مملکت آصف علی زرداری اپنے صاحبزادے اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی مبینہ منگنی کی بات چیت کے سلسلے میں آسٹریا میں موجود ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق دونوں آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ہیں، جہاں بلاول بھٹو کی ممکنہ منگنی اور شادی کے حوالے سے ایک آسٹرین خاندان سے کم از کم تین ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ تاہم پی پی پی رہنما اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ان تمام رپورٹس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔
خبر کیسے سامنے آئی؟
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ دلہن کا تعلق ایک معروف یورپی خاندان سے بتایا جا رہا ہے، اور دونوں کئی برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ شادی کی تقریب رواں سال کے اختتام تک ویانا میں منعقد ہو سکتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر آصف زرداری 27 سے 31 اگست تک آسٹریا کے دورے پر ہیں اور ان کی ہونے والی بہو کا تعلق آسٹریا کے قریب واقع ایک چھوٹے یورپی ملک سے بتایا جا رہا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ صدر زرداری اور بلاول بھٹو کی عنقریب آسٹریا سے برطانیہ روانگی متوقع ہے، جہاں خاندان کے دیگر افراد کی ممکنہ دلہن کے خاندان سے ملاقاتوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض پوسٹس میں یہاں تک دعویٰ کیا گیا کہ مبینہ ہونے والی شریکِ حیات کا تعلق آسٹریا کے سابق شاہی خاندان سے ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں لیختن سٹائن کے دارالحکومت وادوز کا حوالہ بھی دیا گیا، تاہم ان دعوؤں کی کوئی باضابطہ یا قابلِ اعتماد تصدیق سامنے نہیں آئی۔ خیال رہے کہ بلاول بھٹو زرداری 21 ستمبر 1988 کو پیدا ہوئے تھے اور رواں برس ستمبر میں وہ 38 برس کے ہو جائیں گے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے تردید
میئر کراچی اور پارٹی ترجمان مرتضیٰ وہاب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی منگنی یا شادی سے متعلق گردش کرنے والی خبریں مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق نہ تو کسی منگنی کا باضابطہ اعلان کیا گیا ہے، نہ ہونے والی دلہن کے نام کی تصدیق ہوئی ہے، اور نہ ہی شادی کی کوئی تاریخ طے کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شادی کی خبروں سے متعلق پیپلز پارٹی کے کئی سینئر رہنما بھی لاعلم تھے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی ذاتی زندگی سے متعلق قیاس آرائیاں کوئی نئی بات نہیں، تاہم صدر زرداری کے نجی دورۂ یورپ نے ان افواہوں کو نئی ہوا دی ہے۔ مبصرین کے مطابق پارٹی کی جانب سے فوری اور واضح تردید اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ چیئرمین پی پی پی کی ذاتی زندگی سے متعلق خبریں سیاسی طور پر حساس معاملہ سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک خاندان یا پارٹی کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آتا، اس نوعیت کے دعووں کو غیر مصدقہ ہی تصور کیا جانا چاہیے۔
UrduLead UrduLead