اتوار , اگست 30 2026

سانحہ پمز: 8 اعلیٰ افسران فوری معطل

وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح اجلاس، فوجداری کارروائی کی ہدایت

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت سانحہ پمز کے حوالے سے لاہور میں اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیرِ اعظم کو تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی۔ اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم نے کمیٹی کی نشاندہی پر 8 افراد کو فوری معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ اور فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی ہدایت کر دی۔

پس منظر

اعلامیے کے مطابق معطل کیے جانے والوں میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی محمد عثمان، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر اور ڈاکٹر اویس شاہ کے علاوہ سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی عبدالرحمان بھی شامل ہیں۔ وزیرِ اعظم آفس نے سیکیورٹی پر مامور کمپنی اور اس کے عہدیداران کے خلاف بھی کارروائی کی منظوری دی۔ اسپتال ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عمران سکندر آج اپنا سامان اور فائلیں لے کر دفتر سے روانہ ہو گئے، روانگی سے قبل انہوں نے قریبی افسران و اسٹاف کے ساتھ ایک مختصر ملاقات بھی کی۔

اجلاس میں واقعے کی تقریباً دو منٹ پر مشتمل سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دکھائی گئی۔ بریفنگ کے مطابق پمز میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی تفصیلی ایس او پیز یا تربیت موجود نہیں تھی، اسپتال کے 13 ایس او پیز میں سے صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ایمرجنسی کا ذکر ملا۔ واقعے کے وقت سپروائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا، جبکہ وارڈ میں صرف دو نرسیں، ایک خاتون گارڈ اور ایک ہاؤس آفیسر موجود تھے۔ آگ لگنے اور پورے وارڈ کے جل جانے میں محض دو منٹ لگے، آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال کی گئی اور پہلی ریسکیو ٹیم کال کے 15 منٹ بعد اسپتال پہنچی۔

وزیرِ اعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت کی اور ہٹائے گئے افسران کی جگہ نئے افراد کی فوری اور بیک وقت تعیناتی کا حکم دیا۔ رپورٹ کو وزارتِ قومی صحت کی ویب سائٹ پر عام کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ اجلاس میں بچے کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین کے لیے ستارہ خدمت اور 1 کروڑ روپے کے انعام کی منظوری بھی دی گئی، جبکہ متاثرہ وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت کی گئی۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں، ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا، اور معصوم بچوں کی موت پر پوری قوم غمگین ہے۔ انہوں نے نرس رضیہ نورین کی بہادری کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

وزیرِ صحت کے استعفے کا معاملہ

واقعے پر وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ اب بھی جاری ہے۔ ایک صحافی کے یہ پوچھنے پر کہ ان کے استعفے کا کیا بنا، وزیرِ صحت نے اس بار بھی واضح جواب دینے سے گریز کیا، جو ان کے پہلے کے مبہم موقف سے ملتا جلتا رہا۔

سوشل میڈیا ردعمل

8 اعلیٰ افسران کی معطلی کی خبر پر سوشل میڈیا صارفین نے ملا جلا ردعمل دیا۔ بڑی تعداد میں صارفین نے فوری کارروائی کو خوش آئند قرار دیا، تاہم بہت سوں نے سوال اٹھایا کہ سیاسی سطح پر ذمہ داری، خصوصاً وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا فیصلہ کیوں تاحال نہیں ہوا۔ نرس رضیہ نورین کی بہادری کو صارفین نے بھرپور سراہا اور انہیں سوشل میڈیا پر ہیرو قرار دیا۔ دوسری جانب پمز میں ایمرجنسی ایس او پیز کے فقدان اور 15 منٹ کے ریسکیو رسپانس ٹائم پر بھی شدید تنقید دیکھنے میں آئی، صارفین نے اسے نظامی ناکامی قرار دیا۔

ماہرانہ تجزیہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 8 اعلیٰ افسران کی بیک وقت معطلی اور فوجداری کارروائی کی ہدایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت واقعے کو محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت کے زمرے میں لے رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایس او پیز کی عدم موجودگی اور تربیت کا فقدان ظاہر کرتا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات برسوں سے نظرانداز کیے جاتے رہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت کے استعفے سے متعلق تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہ ہونا حکومت کے لیے سیاسی دباؤ برقرار رکھے گا، اور آنے والے دنوں میں فوجداری کارروائی کی پیش رفت ہی یہ طے کرے گی کہ حکومت کا یہ اقدام علامتی ہے یا حقیقی احتساب کی جانب پہلا قدم۔

About Aftab Ahmed

Check Also

PIMS: ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیرِ اعظم کو پیش

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیرِ اعظم شہباز شریف کو پیش کر دی گئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے