
سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیرِ اعظم شہباز شریف کو پیش کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی کے سربراہ سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان نے رپورٹ رات گئے وزیرِ اعظم کے مشیر توقیر شاہ کے دفتر میں جمع کروائی، جنہوں نے رپورٹ وزیرِ اعظم کو بھجوا کر اس کے مندرجات اور سفارشات سے بھی آگاہ کر دیا۔ انکوائری کمیٹی کے ذرائع نے رپورٹ وزیرِاعظم آفس بھجوائے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔
پس منظر
پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا، جس کے بعد وفاقی سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا گیا اور واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی قائم کی گئی، جس کے سربراہ سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان مقرر ہوئے۔ حکام کے مطابق نرسری میں آگ لگنے کے وقت 16 نومولود بچے موجود تھے۔
اس دوران پمز انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ سامنے آ چکی ہے جس کے مطابق بچوں کی انتہائی نگہداشت میں نصب انکیوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار بتانے والے آلے میں چھوٹا دھماکا ہوا جس سے پیدا ہونے والی چنگاری سے آکسیجن نے آگ پکڑ لی۔ والدین اور عینی شاہدین نے نرسری میں طبی عملے کی غیر موجودگی اور دروازے بند ہونے کی شکایت کی، جبکہ ریسکیو اداروں پر دیر سے پہنچنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ سی ڈی اے کے فائر ڈپارٹمنٹ نے بھی اپنی رپورٹ میں پمز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات کو ناکافی قرار دیا اور بتایا کہ ہنگامی اخراج کے راستے باہر سے مستقل بند تھے۔
انکوائری کمیٹی نے تحقیقات کے دوران پی آئی ایم ایس ہسپتال کے افسران اور عملے کی غفلت کو ثابت کیا اور یہ بھی سامنے آیا کہ ہسپتال کا عملہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی مناسب تربیت نہیں رکھتا تھا۔ کمیٹی نے آگ لگنے کی اطلاع ملنے سے فائر بریگیڈ کی آمد تک کے تمام اوقات کا بھی جائزہ لیا اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈاکٹروں، نرسوں اور سیکیورٹی گارڈز سمیت 30 سے زائد اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کیے۔
نئی جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے سانحے کی وجوہات اور ذمے داروں کا تعین کر لیا ہے، حادثے کے وقت غیر حاضر عملے کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ پمز اسپتال میں علاج معالجے اور سہولتوں کو عالمی معیار سے کم قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کو عوام کے لیے جاری کرنے کا اختیار وزیرِ اعظم کو دیا گیا ہے اور اس پر کمیٹی کے تمام اراکین کے دستخط موجود ہیں۔ دوسری جانب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سانحہ پمز کی شفاف تحقیقات کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تحاریک بھی منظور کی جا چکی ہیں۔
سوشل میڈیا ردعمل
صارفین نے رپورٹ کے وزیرِ اعظم کو پیش کیے جانے کی خبر پر ملا جلا ردعمل دیا۔ ایک بڑے طبقے کا مطالبہ ہے کہ رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے لائی جائے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے، جبکہ کچھ صارفین نے سوال اٹھایا کہ رپورٹ رات گئے خفیہ طور پر جمع کیوں کرائی گئی۔ متاثرہ خاندانوں کے حق میں ٹرینڈز بھی سامنے آئے جن میں انصاف کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔
ماہرانہ تجزیہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں عملے کی غفلت، ناقص فائر سیفٹی انتظامات اور ہنگامی تربیت کے فقدان کی نشاندہی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں حفاظتی معیار پر برسوں سے توجہ نہیں دی گئی۔ ماہرین کے مطابق محض انفرادی ذمہ داری کا تعین کافی نہیں، بلکہ اصل امتحان یہ ہوگا کہ حکومت رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کتنی سنجیدگی سے کرتی ہے اور کیا ادارہ جاتی سطح پر ساختی اصلاحات کی جاتی ہیں یا نہیں۔
UrduLead UrduLead