
انگلینڈ کی برتری 261 رنز تک پہنچ گئی
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن کے اختتام پر میزبان ٹیم نے واضح برتری حاصل کر لی۔ لارڈز کے تاریخی میدان میں کھیلے جا رہے میچ میں دن کے اختتام تک انگلینڈ کی مجموعی برتری 261 رنز تک پہنچ گئی، جو کہ اس سیریز میں پاکستان کی کسی بھی اننگز کے مجموعی اسکور سے بھی زیادہ ہے۔

اسٹمپس کے وقت انگلینڈ نے اپنی دوسری اننگز میں 22 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 81 رنز بنا رکھے تھے، جبکہ پہلی اننگز میں میزبان ٹیم نے 290 رنز بنائے تھے۔ جواب میں پاکستان کی پوری ٹیم صرف 110 رنز پر ڈھیر ہو گئی، جس کے باعث انگلینڈ کو نمایاں برتری حاصل ہوئی۔
دوسرے دن کا کھیل
دوسرے دن کے کھیل میں انگلینڈ کے بلے بازوں نے محتاط انداز اپناتے ہوئے برتری کو مزید مستحکم کیا۔ اوپنر ایمیلیو گے کریز پر جمے رہے اور 69 گیندوں پر 30 رنز بنا کر ناقابلِ شکست میدان میں موجود تھے، جن میں 6 چوکے شامل تھے۔ ان کے ساتھ کپتان ہیری بروک 13 گیندوں پر 7 رنز بنا کر کریز پر موجود تھے۔ اننگز کے دوران جو روٹ سب سے نمایاں بلے باز رہے جو 37 گیندوں پر 24 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، ان کی وکٹ 60 رنز پر تیسری وکٹ کے طور پر 16.3 اوورز میں گری۔ موجودہ جوڑی نے 5.3 اوورز میں 21 رنز کا اضافہ کیا۔
پاکستانی بولنگ اٹیک میں محمد علی نے پہلی کامیابی حاصل کی اور اپنے 6 اوورز میں ایک وکٹ کے عوض 27 رنز دیے، جبکہ محمد عباس اب تک وکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے اور انہوں نے 8 اوورز میں بغیر کوئی وکٹ لیے 27 رنز دیے۔ موجودہ رن ریٹ 3.68 کے قریب رہا، جبکہ آخری 10 اوورز میں انگلینڈ نے 4.20 کی اوسط سے 42 رنز بنائے۔
دونوں ٹیموں کے پاس ڈی آر ایس ریویوز کی صورتحال یہ ہے کہ انگلینڈ کے پاس 3 میں سے 2 ریویوز باقی ہیں، جبکہ پاکستان کے پاس بھی 3 میں سے 2 ریویوز محفوظ ہیں۔
سوشل میڈیا پر شائقین کا ردعمل
میچ کے دوسرے دن کے اختتام پر سوشل میڈیا پر پاکستانی شائقین کی جانب سے شدید تشویش اور مایوسی کا اظہار دیکھنے میں آیا۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر متعدد صارفین نے پاکستانی بیٹنگ لائن اپ کے صرف 110 رنز پر آؤٹ ہونے پر تنقید کی اور اسے دورے کی مجموعی کارکردگی کا تسلسل قرار دیا۔ کئی شائقین نے محمد علی کی وکٹ پر مبنی کارکردگی کو سراہا، جبکہ کچھ صارفین نے پاکستانی بیٹنگ کوچنگ اسٹاف اور انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے۔ کرکٹ تجزیہ کاروں اور مقامی کھیلوں کے پیجز نے 261 رنز کی برتری کو میچ کا “فیصلہ کن مرحلہ” قرار دیتے ہوئے تیسرے دن کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
ماہرین کا تجزیہ
کرکٹ مبصرین کے مطابق پاکستانی ٹیم کی 110 رنز پر آؤٹ ہو جانا، انگلش حالات میں مسلسل بیٹنگ ناکامیوں کا تسلسل ہے، جس کی بنیادی وجہ سوئنگ اور سیم بولنگ کے خلاف بلے بازوں کی تکنیکی کمزوریاں قرار دی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ محمد علی اور محمد عباس نے دوسری اننگز میں کسمپرسی کے باوجود لائن اینڈ لینتھ برقرار رکھی، تاہم پاکستان کو تیسرے دن جلد وکٹیں حاصل کرنا ہوں گی تاکہ برتری کو قابلِ انتظام سطح پر رکھا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر انگلینڈ کی برتری 350 سے 400 رنز کی حد تک پہنچ جاتی ہے تو پاکستان کے لیے میچ بچانا انتہائی مشکل ہو جائے گا، اور اس صورتحال میں پاکستانی بولنگ اٹیک کی تیسرے دن کی کارکردگی میچ کا رخ متعین کرے گی۔
UrduLead UrduLead