
مصنوعی مٹھاس (آرٹیفیشل سویٹنرز) کے استعمال میں دنیا بھر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، تاہم 2025-2026 کے دوران سامنے آنے والی نئی طبی تحقیقات نے اس کے ممکنہ نقصانات کو ایک بار پھر زیرِ بحث لا دیا ہے۔
ٹفٹس یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے 21 کلینیکل ٹرائلز پر مشتمل ایک جامع جائزے میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا استعمال جسم میں انسولین کی سطح اور بلڈ شوگر کے طویل مدتی اشاریے (HbA1c) کو خالص پانی یا پلیسیبو کے مقابلے میں بڑھا سکتا ہے۔
عالمی رجحان اور ریگولیٹری ردعمل
گزشتہ چند برسوں میں چینی کے متبادل کے طور پر مصنوعی مٹھاس کا استعمال مشروبات، غذائی مصنوعات اور “ڈائٹ” فوڈز میں مسلسل بڑھتا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے 2023 میں غیر شوگر مٹھاس کے استعمال سے متعلق رہنما اصول جاری کیے تھے، اور تازہ ترین تحقیق کے بعد اس معاملے پر ادارے کی توجہ مزید بڑھی ہے۔ 2025 اور 2026 کے دوران کینسر کے علاج (امیونوتھراپی) میں رکاوٹ، آنتوں کے مائیکروبایوم میں خلل، امراضِ قلب اور نسل در نسل اثرات سے متعلق شواہد سائنسی جرائد میں شائع ہوئے ہیں، جو پہلے سے کہیں زیادہ وسیع اور مخصوص ہیں۔ امریکی ریاست لوزیانا نے 2028 سے سرکاری اسکولوں کے کھانوں میں اسپارٹیم پر پابندی کا قانون بھی منظور کر لیا ہے، جبکہ یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے ایسیسلفیم-کے کو مقررہ حد تک استعمال کے لیے محفوظ قرار دیا ہے۔
اسی طرح فرانس کے NutriNet-Santé مطالعے سمیت متعدد کوہورٹ تحقیقات میں مصنوعی مٹھاس اور امراضِ قلب کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا، جبکہ کچھ میٹا-تجزیوں میں کینسر کے مجموعی خطرے پر واضح اثر نہیں دیکھا گیا، تاہم یورپی آبادیوں میں معمولی اضافہ رپورٹ ہوا۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
مصنوعی مٹھاس سے متعلق نئی تحقیق سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔ صحت سے آگاہی رکھنے والے صارفین “ڈائٹ” مشروبات کو ترک کرنے کے مشورے شیئر کر رہے ہیں، جبکہ کچھ افراد کا مؤقف ہے کہ چینی کے مقابلے میں مٹھاس اب بھی کم نقصان دہ متبادل ہے۔ غذائی ماہرین اور فٹنس انفلوئنسرز کی پوسٹس میں تحقیق کے حوالے بھی زیر گردش ہیں، جس سے یہ موضوع مختلف آن لائن حلقوں میں بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔
ماہرین کی رائے
ٹفٹس یونیورسٹی کی محقق مینگ وانگ کے مطابق، غیر کیلوری والے موازنے پر توجہ مرکوز کرنے سے مٹھاس کے اپنے جسمانی اثرات کو الگ کر کے سمجھنا ممکن ہوا، نہ کہ صرف اس کیلوری کے اثرات کو جو یہ تبدیل کرتی ہے۔ مطالعے کے سینئر مصنف اور ماہرِ امراضِ قلب ڈاریوش موزفریان کا کہنا ہے کہ اگرچہ سافٹ ڈرنکس میں شامل چینی کی بڑی مقدار کے مقابلے میں مصنوعی مٹھاس بہتر متبادل ہو سکتی ہے، لیکن انہیں مکمل طور پر محفوظ تصور نہیں کیا جا سکتا اور احتیاط برتنا ہی دانشمندانہ راستہ ہے۔ دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ اسپارٹیم، ایسیسلفیم-پوٹاشیم اور سوکرالوز جیسے مختلف اجزاء کو اکثر ایک ہی زمرے میں رکھ کر جانچا جاتا ہے، اس لیے ہر مٹھاس کے انفرادی حیاتیاتی اثرات کو الگ سے سمجھنا ضروری ہے۔
UrduLead UrduLead