اتوار , اگست 30 2026

آئیسکو نجکاری کی تاریخ میں توسیع

نجکاری کمیشن (پی سی) نے 29 اگست 2026 کو اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ (آئیسکو) میں نجی شعبے کی شمولیت کے لیے اظہارِ دلچسپی (ای او آئی) جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کر دی گئی ہے، اور نئی آخری تاریخ 21 ستمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق یہ توسیع مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو شرکت کے لیے مزید سہولت دینے اور نجکاری کے عمل کو زیادہ مسابقتی اور شفاف بنانے کے مقصد سے کی گئی ہے۔

پس منظر

آئیسکو ان تین بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں سے ایک ہے جنہیں حکومت نجی شعبے کو فروخت کرنے کے عمل میں لے کر آئی ہے، باقی دو فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (جیپکو) ہیں۔ حکومت ہر کمپنی میں 51 فیصد سے 100 فیصد تک حصص، انتظامی کنٹرول سمیت، نجی سرمایہ کاروں کو دینے کی خواہاں ہے۔ ان خسارے میں چلنے والی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا یہ عمل اس وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے جو پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرض پروگرام کی شرائط پوری کرنے کے لیے اپنا رہا ہے، جس کے تحت قومی ایئرلائن پی آئی اے کی فروخت اور نیویارک میں روزویلٹ ہوٹل جیسے اثاثے بیچنے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ نجکاری کمیشن نے واضح کیا ہے کہ آئیسکو کے لیے اظہارِ دلچسپی کے عمل کی دیگر تمام شرائط و ضوابط بدستور برقرار رہیں گی، اور اضافی وقت کا مقصد ممکنہ سرمایہ کاروں کو ضروری تکنیکی، مالی اور دیگر جائزہ جات (ڈیو ڈیلیجنس) مکمل کرنے کا موقع دینا ہے۔

سوشل میڈیا و سرمایہ کاروں کا ردعمل

پاکستان کے پاور سیکٹر کی نجکاری پر ماضی میں ملا جلا ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔ کاروباری حلقے اور بعض ماہرینِ معیشت اسے زرِ مبادلہ کے حصول اور دائمی طور پر ناکارہ سرکاری اداروں کی بہتری کے لیے خوش آئند قدم قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ اپوزیشن اور سول سوسائٹی کے کچھ حلقے قومی اثاثوں کو کم قیمت پر بیچے جانے اور نجکاری کے بعد ملازمتوں کے خاتمے پر تشویش کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ آخری تاریخ میں تازہ توسیع کے بعد یہی بحث ایک بار پھر متعلقہ حلقوں، بجلی سیکٹر کی یونینز اور اسلام آباد و راولپنڈی سمیت آئیسکو کے علاقے کے صارفین میں دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے۔

ماہرانہ تجزیہ

معاشی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی بڑی سرکاری اثاثہ جات کی فروخت میں آخری تاریخ میں توسیع ایک عام سی بات ہے، جو عموماً سرمایہ کاروں کی طرف سے درکار وسیع تر جائزہ کاری کی عکاسی کرتی ہے نہ کہ دلچسپی کی کمی کی۔ چونکہ حکومت نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی فروخت کو آئی ایم ایف سے منسلک اصلاحاتی وعدوں کا ایک اہم سنگِ میل قرار دے رکھا ہے، اس لیے ماہرین کا خیال ہے کہ نجکاری کمیشن سرمایہ کاروں کے اعتماد اور فیسکو، جیپکو اور آئیسکو کے مابین موازنے کو برقرار رکھنے کے لیے شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق آئیسکو کی فروخت کی حتمی کامیابی کا انحصار اس وقتی توسیع سے زیادہ اس بات پر ہوگا کہ ای او آئی مرحلے کے بعد سرمایہ کاروں کو کمپنی کی مالیت، قرضوں کے ڈھانچے اور ریگولیٹری وضاحت کے حوالے سے کیا شرائط پیش کی جاتی ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

Sheroes: کنزہ، زارا نور، عشنا ایک ساتھ نئی فلم میں

پاکستانی اداکارائیں کنزہ ہاشمی، زارا نور عباس اور عشنا شاہ، ثاقب خان اور بدر محمود …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے