اتوار , اگست 30 2026

سانحہ پمز: 10 اعلیٰ افسران کو ہٹانے کی سفارش

وزیرِ اعظم نے لاہور میں اجلاس طلب کر لیا

سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، رپورٹ میں قائم مقام سیکریٹری صحت کیپٹن (ریٹائرڈ) محمود کی سفارشات بھی شامل کر لی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں پمز سانحہ پر متعدد سینئر افسران کو غفلت اور کوتاہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کمیٹی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 10 افسران کو عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کی ہے، جن میں سے 5 انتہائی اہم اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں۔

پس منظر

انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں جن افسران کو برطرف کرنے کی سفارش کی گئی ہے ان میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر، ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عنیزہ، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال درانی، ڈپٹی ڈائریکٹر حسن نواز اور جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر چلڈرن ڈاکٹر مطاہر شاہ شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سینئر افسران نے سنگین غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اور پمز اسپتال غیر پیشہ ورانہ انداز میں، مناسب انتظامی ڈھانچے کے بغیر چلایا جا رہا تھا۔ ہٹائے جانے والے افسران کی جگہ نئے اور اہل افراد کی تعیناتی اور اسپتال کے لیے مستقل گورننگ بورڈ قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، رپورٹ کے مطابق باقاعدہ نگرانی اور مؤثر انتظام کے لیے ایسا بورڈ ناگزیر ہے۔

واضح رہے کہ 26 اگست کو پمز اسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں جھلس کر 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے، جن کے والدین غم سے نڈھال ہیں اور بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کے ساتھ ساتھ اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ اس سے قبل انکوائری کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ وزیرِ اعظم کو پیش کی جا چکی ہے جس میں ذمہ داروں اور واقعے کے وقت غیر حاضر عملے کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔ کمیٹی نے پمز انتظامیہ، ڈاکٹروں، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کے بیانات بھی رپورٹ میں شامل کیے ہیں اور واضح کیا ہے کہ اسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات ناکافی اور کوئی بھی چیز عالمی معیار کے مطابق نہیں۔ رپورٹ کو عوام کے سامنے لانے کا اختیار وزیرِ اعظم کو دیا گیا ہے۔

دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سانحہ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ سے متعلق اجلاس لاہور میں طلب کر لیا ہے، جس میں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اور دیگر متعلقہ افسران شرکت کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں تحقیقاتی رپورٹ پر باقاعدہ بریفنگ دی جائے گی جس کے بعد وزیرِ اعظم سفارشات کی روشنی میں اہم ہدایات جاری کریں گے۔

وزیرِ صحت کے استعفے کا معاملہ

سانحے کے بعد سے وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑتا رہا ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں میزبان حامد میر کے اس سوال پر کہ آیا انہوں نے وزیرِ اعظم کو ہاتھ سے لکھا استعفیٰ بھجوایا جسے قبول نہیں کیا گیا، مصطفیٰ کمال نے سوال کی تردید نہیں کی اور کہا کہ جب آپ کو معلوم ہے تو آپ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں۔ اس سے قبل ایک نجی ٹی وی سے گفتگو میں بھی وزیرِ صحت نے اپنے استعفے سے متعلق سوال کا واضح جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا تھا کہ کمیٹی کی سفارشات پر من و عن عمل کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان سمیت جماعت کے دیگر رہنماؤں نے بھی وزیرِ صحت سے استعفے کا مطالبہ کیا، جبکہ پارٹی رہنما نیئر حسین بخاری نے کہا کہ صرف ایک سیکریٹری کو ہٹانا کافی نہیں، پوری وزارتِ صحت کو جوابدہ ہونا چاہیے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے بھی ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں اور عملے کو معطل کرنے کے مطالبے کے ساتھ وزیرِ صحت کو اخلاقی طور پر مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تھا۔

سوشل میڈیا ردعمل

سانحہ پمز اور وزیرِ صحت کے کردار پر سوشل میڈیا صارفین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ایکس (ٹوئٹر) پر صارف Shahzad Shafi نے لکھا کہ انہیں پمز ہسپتال نہیں سنبھالا جا رہا اور یہ ملک سنبھالنے کی بات کرتے ہیں۔ کئی صارفین نے 10 افسران کی برطرفی کی سفارش کو خوش آئند قرار دیا مگر سوال اٹھایا کہ سیاسی سطح پر ذمہ داری کیوں طے نہیں کی جا رہی۔ متاثرہ خاندانوں کی حمایت میں ٹرینڈز بھی مسلسل چلتے رہے جن میں انصاف کی فوری فراہمی اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ دہرایا گیا۔ اسپتال کے دورے کے بعد رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش کمار کے یہ ریمارکس بھی وائرل ہوئے کہ پہلے ایئر کنڈیشنر سے آگ لگنے کی بات کہی گئی مگر بعد میں پتا چلا کہ اے سی کام ہی نہیں کر رہا تھا اور سی سی ٹی وی سے بھی آگ لگنے کی وجہ سامنے نہ آ سکی، جس پر صارفین نے تحقیقات میں تضادات کی نشاندہی کی۔

ماہرانہ تجزیہ

تجزیہ کاروں کے مطابق 10 اعلیٰ افسران کی برطرفی کی سفارش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سانحہ محض ایک تکنیکی خرابی نہیں بلکہ ادارہ جاتی نااہلی اور مسلسل نگرانی کے فقدان کا نتیجہ تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقل گورننگ بورڈ کا قیام ایک اہم اور دیرینہ مطالبہ رہا ہے، تاہم اصل چیلنج یہ ہوگا کہ نئے تقرر ہونے والے افسران کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھا جائے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وزیرِ صحت کے استعفے کے سوال پر مبہم جوابات حکومت کے لیے سیاسی دباؤ میں اضافہ کر رہے ہیں، اور لاہور میں طلب کیا گیا اجلاس اس بات کا تعین کرے گا کہ وزیرِ اعظم انتظامی کارروائی کے ساتھ سیاسی ذمہ داری کا تعین بھی کرتے ہیں یا نہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مصنوعی مٹھاس: صحت کے لیے کتنی مفید، کتنی مضر؟

مصنوعی مٹھاس (آرٹیفیشل سویٹنرز) کے استعمال میں دنیا بھر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے