
کھلاڑیوں کے دفاع کا اعلان
پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے کہا ہے کہ انہیں عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان کے انٹرویو سے متعلق تنازع کا کوئی علم نہیں، اور ٹیم کی تمام تر توجہ صرف کرکٹ پر مرکوز ہے۔ لارڈز میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری ٹیسٹ کے دوسرے روز کھیل کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات کہی۔
انٹرویو تنازع اور پی سی بی کی ناراضی
لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز کھانے کے وقفے کے دوران برطانوی براڈکاسٹر نے عمران خان کے بیٹوں کا ایک انٹرویو نشر کیا تھا، جو سابق انگلش کپتان مائیکل ایتھرٹن نے کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نشریات پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ناراضی ظاہر کی، جبکہ یہ تاثر بھی سامنے آیا کہ وقفے کے بعد پاکستانی ٹیم کی میدان میں واپسی میں کچھ ہچکچاہٹ دیکھی گئی۔ سرفراز احمد نے اس ضمن میں واضح کیا کہ انہیں اس بات کا بھی علم نہیں کہ پی سی بی نے انگلینڈ کرکٹ حکام سے کوئی باضابطہ شکایت کی ہے یا نہیں، اور ٹیم معمول کے مطابق ہی وقفے کے بعد میدان میں اتری تھی، انٹرویو کے باعث کسی قسم کی تاخیر یا رکاوٹ نہیں ہوئی۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
پاکستانی شائقین کرکٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس واقعے پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کچھ صارفین اسے غیر ضروری تنازع قرار دے کر ٹیم کی خراب کارکردگی کو اصل مسئلہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر صارفین براڈکاسٹر کے وقفے کے دوران ایسا انٹرویو نشر کرنے کے وقت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ کھلاڑیوں کی حالیہ بیٹنگ ناکامی کے تناظر میں سرفراز احمد کے بیانات بھی سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہیں، جہاں مداحین ٹیم مینجمنٹ کے مستقبل کے فیصلوں پر رائے زنی کر رہے ہیں۔
ماہرین کی رائے
کرکٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہیڈ کوچ کا کھلاڑیوں کا کھل کر دفاع کرنا ٹیم کے اندرونی اعتماد کو برقرار رکھنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب محمد رضوان، سعود شکیل اور سلمان علی آغا جیسے مستند کھلاڑی فارم کی کمی کا شکار ہوں۔ ماہرین کے مطابق سرفراز احمد کا سیریز کے اختتام تک فیصلے مؤخر کرنے کا مؤقف ایک متوازن انتظامی طرزِ عمل ہے، تاہم مسلسل ناکام کارکردگی کی صورت میں سلیکشن کمیٹی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead