پیر , اگست 31 2026

اسلام آباد کال سینٹر: مزید 20 چینی شہری ملک بدر

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد میں غیر قانونی کال سینٹر کے ذریعے قابل اعتراض مواد کی تیاری اور فروخت میں ملوث مزید 20 چینی شہریوں کو ملک بدر کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ملک بدر کیے گئے چینی شہری پاکستان میں قیام کے دوران ویزا قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے، جس کے بعد ان کے نام بلیک لسٹ میں بھی شامل کر دیے گئے ہیں تاکہ وہ دوبارہ پاکستان میں داخل نہ ہو سکیں۔ اس کیس میں اب تک ملک بدر کیے گئے غیر ملکی شہریوں کی مجموعی تعداد کم از کم 34 ہو گئی ہے، جبکہ اس سے قبل 14 ویتنامی شہریوں کو بھی ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا جا چکا ہے۔

کیس کا آغاز کیسے ہوا؟

یہ کارروائی اسلام آباد کے سیکٹر آئی-10 میں ایف آئی اے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے مشترکہ چھاپے سے جڑی ہے، جس میں 275 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق کال سینٹر کا انتظامی عملہ قابل اعتراض مواد کی تیاری میں ملوث پایا گیا، جس کے لیے غیر ملکی مرد و خواتین کو خصوصی طور پر بھرتی کیا گیا تھا۔ ایف آئی اے نے فارنرز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جبکہ این سی سی آئی اے نے ملزمان کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت کارروائی کی۔ حکام کے مطابق تمام گرفتار غیر ملکی شہری وزٹ یا بزنس ویزوں پر پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ کچھ پاکستانی سہولت کار بھی اس نیٹ ورک میں ملوث پائے گئے ہیں، جنہوں نے غیر ملکی شہریوں کو امیگریشن اور متعلقہ محکموں میں معاونت فراہم کی، تاہم تحقیقات جاری ہونے کے باعث فی الحال ان کے نام ظاہر نہیں کیے جا رہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ کریک ڈاؤن اگست 2026 میں شروع ہونے والی وسیع تر کارروائی کا حصہ ہے جس میں اسلام آباد کے مختلف مقامات سے سینکڑوں غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیا گیا، اور اسے پاکستان کی تاریخ کی اس نوعیت کی سب سے بڑی کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ فارنرز ایکٹ کے تحت ملک بدری کا عمل نسبتاً سادہ قانونی طریقہ کار ہے، جس میں ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر متعلقہ غیر ملکی شہری کو فوری طور پر ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق اصل چیلنج مقامی سہولت کاروں اور اداروں کے اندر موجود مبینہ ملی بھگت کا کھوج لگانا ہے، جس کے بغیر اس نوعیت کے نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ مشکل ہو گا۔ سائبر کرائم کے ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور کاروبار کی آڑ میں چلنے والی ایسی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے ویزا اجرا اور کاروباری رجسٹریشن کے نظام میں بہتری ناگزیر ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

لارڈز ٹیسٹ: عباس کی تباہ کن باؤلنگ

انگلینڈ کا پاکستان پر 388 رنز کا برتری، چوتھے دن پہلا سیشن لارڈز کرکٹ گراؤنڈ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے