پیر , اگست 31 2026

شدید گرمی میں بجلی بحران شدت اختیار کر گیا

لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے تک پہنچ گیا

ملک بھر میں شدید گرمی اور حبس کے دوران بجلی کی طویل بندش کا سلسلہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بجلی کے شارٹ فال میں اضافے کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 6 سے 16 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے، جس سے شہری اور دیہی دونوں آبادیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جنوبی پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے علاقے سب سے زیادہ متاثر بتائے جا رہے ہیں جہاں بندش کا دورانیہ 10 سے 12 گھنٹے تک جا پہنچا ہے۔

بحران کیوں گہرا ہوا؟

حکام کے مطابق آر ایل این جی کارگو کی بروقت عدم دستیابی بحران کی بڑی وجہ ہے۔ پاور ڈویژن کے اعداد و شمار کے مطابق گیس کی کمی سے بجلی کی پیداوار میں تقریباً 3600 میگاواٹ کی کمی واقع ہوئی، جبکہ منگلا ہائیڈرو پاور اسٹیشن کی پیداوار میں بھی 195 میگاواٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ حالیہ ہفتوں میں مختلف نجی ٹی وی چینلز کی رپورٹس کے مطابق ملک کا مجموعی شارٹ فال 4 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکا ہے، جس کے باعث پنجاب بھر بالخصوص لاہور میں بجلی کی بندش طویل ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق لیسکو کا شارٹ فال بھی 1200 میگاواٹ سے تجاوز کر گیا ہے، تاہم دن کے اوقات میں سولر بجلی کی پیداوار سے تقریباً 7 ہزار میگاواٹ حاصل ہونے کے باعث شارٹ فال نسبتاً کم رہتا ہے۔ این ٹی ڈی سی ذرائع اس صورتحال کا ذمہ دار متعدد پاور پلانٹس کی کم پیداوار اور گیس بحران کو بھی قرار دیتے ہیں۔

بڑے شہری مراکز میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ نسبتاً کم یعنی 6 گھنٹے تک ہے، جبکہ دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں یہ دورانیہ 12 گھنٹے تک پہنچ چکا ہے۔ بجلی چوری اور لائن لاسز والے علاقوں میں صورتحال مزید ابتر ہے جہاں بندش 12 گھنٹے سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ رات کے اوقات میں بندش کا دورانیہ خاص طور پر زیادہ رہتا ہے۔

سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل

طویل اور بیشتر مقامات پر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر عوامی غصہ سوشل میڈیا سے سڑکوں تک پھیل چکا ہے۔ کراچی میں حالیہ دنوں بجلی کے شدید بحران کے خلاف پاک کالونی، لیاقت آباد، غریب آباد، نشتر روڈ، بھیم پورہ اور رنچھوڑ لائن سمیت متعدد علاقوں میں مظاہرے ہوئے، جہاں شہریوں نے اہم شاہراہیں بند کر کے فوری بحالی کا مطالبہ کیا اور طویل ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوئی۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور دیگر پلیٹ فارمز پر صارفین نے بجلی کی بندش کے ساتھ ساتھ پانی کی قلت کا بھی شکوہ کیا، جبکہ کئی صارفین نے سرکاری اداروں کی جانب سے شیڈول کی عدم فراہمی پر تنقید کی۔ لاہور میں بھی شہریوں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے کاروبار اور گھریلو زندگی دونوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بجلی بحران کی وجوہات پر بحث بھی جاری ہے — حالیہ عرصے میں ایک معروف اینکر کے اس دعوے پر بھی بحث چھڑی کہ موبائل فون چارجرز بحران کی بڑی وجہ ہیں، تاہم ماہرین اس دعوے کو مبالغہ آمیز قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اصل وجہ ایئرکنڈیشنرز اور دیگر بھاری برقی آلات کا زیادہ استعمال ہے۔

ماہرین کا تجزیہ

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا مؤقف ہے کہ موجودہ بحران محض پیداواری صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ نظم و نسق کا مسئلہ زیادہ ہے۔ صنعتکار اور ماہر توانائی ڈاکٹر گوہر اعجاز کے مطابق ملک کی نصب شدہ بجلی کی صلاحیت 46,605 میگاواٹ ہے، جبکہ گرمیوں میں طلب اکثر 30 سے 33 ہزار میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے، اس کے باوجود پیداوار طلب پوری کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترسیلی نظام (ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر) میں کمزوری دستیاب بجلی کو ضرورت کے مطابق مطلوبہ مقامات تک پہنچانے میں رکاوٹ بنتی ہے، جبکہ صارفین کو مکمل نصب شدہ صلاحیت کے بل ادا کرنے کے باوجود بحران کے وقت بجلی میسر نہیں آتی۔ دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایندھن (آر ایل این جی، تیل) کی بروقت درآمد اور فراہمی کا نظام مؤثر بنائے بغیر یہ بحران ہر موسم گرما میں دہرایا جاتا رہے گا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

اسلام آباد کال سینٹر: مزید 20 چینی شہری ملک بدر

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد میں غیر قانونی کال سینٹر کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے