گلبرگ گرینز کا ٹاور سب جیل قرار، ملزمان کو ممکنہ طور پر ملک بدر کیے جانے کا امکان
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں اسلام آباد کے گلبرگ گرینز میں واقع کمرشل ٹاور اسپارکو پلازہ سے تقریباً 400 غیر ملکی شہری گرفتار کیے گئے ہیں۔ یہ کارروائی مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر غیر ملکیوں کی جانب سے چلائے جانے والے کاروباری نیٹ ورکس کے خلاف وفاقی دارالحکومت میں ہونے والی بڑی کارروائیوں میں سے ایک ہے۔
چھاپہ کیسے شروع ہوا؟
کارروائی کا آغاز 11 اگست کو اس وقت ہوا جب ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کو اطلاع ملی کہ 200 سے 300 کے درمیان غیر ملکی شہری اسلام آباد میں مبینہ طور پر غیر مجاز کاروباری سرگرمیاں چلا رہے ہیں اور اپنے ویزوں کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی اے کی ٹیم نے اسپارکو پلازہ پر چھاپہ مارا اور موقع سے 258 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لے لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد میں 188 ویتنامی، 39 چینی اور 3 انڈونیشین شہری شامل تھے۔ ان میں سے بیشتر پر مبینہ طور پر ویزوں کی مدت ختم ہونے کے باوجود پاکستان میں قیام کا الزام ہے، جبکہ کئی افراد کے پاس پاسپورٹ یا دیگر سفری دستاویزات بھی موجود نہیں تھیں۔
چند گھنٹوں بعد این سی سی آئی اے نے بھی اسی عمارت میں الگ کارروائی کی، جس کے دوران مزید 114 غیر ملکی شہری گرفتار کیے گئے۔ این سی سی آئی اے کے مطابق ان افراد میں 111 چینی اور 3 ویتنامی شہری شامل تھے اور انہیں مبینہ غیر قانونی کال سینٹر اور سائبر فراڈ کی سرگرمیوں کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا۔
دونوں کارروائیوں کے نتیجے میں زیر حراست افراد کی مجموعی تعداد تقریباً 400 ہوگئی، جن میں 250 سے زائد چینی شہری شامل ہیں۔
تفتیش کاروں کے الزامات کیا ہیں؟
ایف آئی اے حکام کے مطابق پلازہ میں کام کرنے والی ایک کمپنی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں ایک مقامی شخص کی معاونت سے رجسٹرڈ کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق عمارت کی تین منزلوں پر بظاہر جائز کاروباری سرگرمیاں جاری تھیں، تاہم تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ چوتھی منزل پر ایک خفیہ کال سینٹر چلایا جا رہا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ مبینہ نیٹ ورک جوئے کی ویب سائٹس، ڈیٹنگ ایپلی کیشنز اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو فراڈ کا نشانہ بناتا تھا۔ متاثرین میں مبینہ طور پر ملزمان کے اپنے ممالک کے شہری بھی شامل تھے، جنہیں مختلف طریقوں سے رقم بھیجنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔
این سی سی آئی اے نے الگ سے الزام عائد کیا کہ گرفتار افراد میں سے بعض ایک سائبر رومانس اور سیکسٹورشن نیٹ ورک چلا رہے تھے، جس کے ذریعے متاثرین کو مبینہ طور پر فحش ویڈیو کالز پر آمادہ کیا جاتا اور بعد ازاں ریکارڈنگز کے ذریعے انہیں بلیک میل کیا جاتا تھا۔
ایک غیر معمولی پیش رفت میں تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ بعض چینی اور ویتنامی شہریوں سے چینی اور ویتنامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وردیوں سے مشابہ یونیفارمز بھی برآمد ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل آلات اور دیگر مواد بھی قبضے میں لیا گیا، جسے حکام نے غیر ملکی اداروں سے متعلق قرار دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اشیا کی موجودگی اور ممکنہ استعمال کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
اسپارکو پلازہ کو سب جیل قرار دے دیا گیا
بڑی تعداد میں گرفتاریوں کے پیش نظر چیف کمشنر آفس اسلام آباد نے ضلعی مجسٹریٹ کی درخواست پر ضابطہ فوجداری (CrPC) کے تحت اسپارکو پلازہ کو سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
حکم نامے کے تحت سب جیل کی سیکیورٹی کی ذمہ داری ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو سونپی گئی ہے، جبکہ گریڈ 17 یا اس سے بالاتر افسر کو سرکاری ریکارڈ برقرار رکھنے کا ذمہ دار مقرر کیا گیا ہے۔
بعد ازاں اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت نے تقریباً 400 غیر ملکی شہریوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔
ایف آئی اے کی ابتدائی کارروائی میں گرفتار کیے گئے تمام 258 افراد کے خلاف فارنرز ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں، جبکہ این سی سی آئی اے کی جانب سے گرفتار افراد کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت اضافی مقدمات کا سامنا ہے۔
عدالت نے جسمانی ریمانڈ مسترد کردیا، ملک بدری کا امکان
تازہ پیش رفت میں ملزمان کو آن لائن سماعت کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں تفتیش کاروں نے مزید پوچھ گچھ کے لیے ان کا جسمانی ریمانڈ طلب کیا۔
تاہم عدالت نے ایف آئی اے کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کردی، جس کے بعد زیر حراست غیر ملکی شہری ایف آئی اے کی تحویل میں منتقل کیے جانے کے بجائے اسپارکو پلازہ میں قائم سب جیل میں ہی جوڈیشل حراست میں رہیں گے۔
جسمانی ریمانڈ مسترد ہونے کے بعد حکام کے مطابق جاری قانونی کارروائی مکمل ہونے پر ان غیر ملکی شہریوں کو طویل فوجداری تفتیش کے بجائے ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وسیع تر تناظر
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اسپارکو پلازہ کی کارروائی غیر قانونی غیر ملکی کاروباری سرگرمیوں اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف وسیع تر کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔
اسی دوران ایف آئی اے نے گوجرانوالہ، گجرات اور سیالکوٹ میں بھی انسانی اسمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شبے میں 17 افراد کو گرفتار کرنے کی اطلاع دی۔
اسپارکو پلازہ آپریشن نے پاکستانی سوشل میڈیا اور نیوز چینلز پر بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ گرفتار ہونے والے غیر ملکی شہریوں کی غیر معمولی تعداد ہے، جو اسلام آباد میں غیر ملکی شہریوں کی ایک ہی کارروائی میں ہونے والی بڑی گرفتاریوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب زیر حراست افراد سے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشابہ یونیفارمز کی برآمدگی نے بھی سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور یونیفارمز کی اصل حیثیت اور ممکنہ استعمال کے بارے میں حتمی نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
UrduLead UrduLead
