جمعرات , اگست 13 2026

پاکستانی طلباء کے برطانوی ویزوں میں تاخیر

تعلیمی مستقبل داؤ پر، ہزاروں طلبہ شش و پنج کا شکار

برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند پاکستانی طلباء کو یو کے ویزاز اینڈ امیگریشن (UKVI) کی جانب سے ویزا پروسیسنگ میں غیر معمولی تاخیر کا سامنا ہے، جس کے باعث متعدد طلبہ اپنے تعلیمی سیشن کا آغاز موخر کرنے یا پورا داخلہ ہی گنوانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

معاملہ کیا ہے؟

رپورٹس کے مطابق جنوری/فروری 2026 کے تعلیمی سیشن کے لیے درخواست دینے والے سینکڑوں پاکستانی طلبہ، جنہوں نے دسمبر 2025 میں ہی اپنے بایومیٹرکس مکمل کروا لیے تھے، تاحال ویزا فیصلے کے منتظر ہیں۔ برطانوی حکومت کی ویب سائٹ کے مطابق عام طالب علم ویزے کی پروسیسنگ کا دورانیہ تین ہفتے بتایا جاتا ہے، تاہم تعلیمی مشیروں اور یونیورسٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تخمینہ اب غیر معتبر ہو چکا ہے کیونکہ بعض ممالک کے درخواست گزاروں کو کہیں زیادہ طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق پاکستانی طلبہ کے لیے “genuine student” (حقیقی طالب علم) کی جانچ کے عمل میں سختی کے باعث بہت سے درخواست گزار اضافی کریڈیبلٹی چیکس میں پھنس جاتے ہیں، جس سے پروسیسنگ مزید سست ہو جاتی ہے۔

اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

تازہ ترین رپورٹس کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مسترد ہونے سے زیادہ درخواستیں خود واپس لی گئیں — گزشتہ 20 برسوں میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے۔ ان واپس لی گئی درخواستوں میں سے 43 فیصد اکیلے پاکستانی طلبہ کی تھیں۔ ستمبر 2025 تک کے ایک سال کے دوران پاکستانی درخواست گزاروں کی مسترد شرح 18 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو مجموعی طور پر 23 ہزار سے زائد مسترد شدہ درخواستوں کا نمایاں حصہ بنتی ہے۔

یونیورسٹیوں کی جانب سے پابندیاں

انگریزی اخبارات کے مطابق کم از کم نو برطانوی تعلیمی اداروں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کو “ہائی رسک” ممالک قرار دے کر داخلوں کی پالیسی سخت کر دی ہے۔ یونیورسٹی آف چیسٹر نے پاکستان سے بھرتی خزاں 2026 تک کے لیے معطل کرنے کی اطلاع دی ہے جبکہ یونیورسٹی آف وولور ہیمپٹن نے پاکستانی اور بنگلہ دیشی طلبہ کی انڈرگریجویٹ درخواستوں پر پابندی عائد کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ بھر میں مکمل پابندی نہیں لگائی گئی، تاہم یونیورسٹیاں اپنے ہوم آفس اسپانسرشپ لائسنس کو برقرار رکھنے کے لیے ویزا مسترد ہونے کی شرح 5 فیصد سے نیچے رکھنے کی پابند ہیں، جس کے باعث وہ زیادہ محتاط انداز اپنا رہی ہیں۔

پارلیمانی کمیٹی میں پریشان کن انکشاف

اس دوران قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے حالیہ اجلاس میں، جس کی صدارت ایم این اے راجہ خرم نواز نے کی، ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ گزشتہ عرصے میں تقریباً 10 ہزار پاکستانی طلبہ اسٹوڈنٹ ویزے پر برطانیہ گئے اور بعد میں وہاں سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کروا دیں۔ ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق اس نوعیت کے واقعات پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک نے اس معاملے پر باضابطہ طور پر پاکستان سے رابطہ بھی کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے واقعات کا تاثر بالواسطہ طور پر نئے حقیقی طلبہ کی ویزا درخواستوں کی سخت جانچ پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

سوشل میڈیا پر یہ معاملہ زیر بحث ہے۔ صحافی عائشہ صدیقہ نے ایک پوسٹ میں یہ نکتہ اٹھایا کہ گزشتہ برس ساڑھے 10 ہزار پاکستانی طلبہ قانونی ویزے پر برطانیہ آئے اور ڈگری مکمل کرنے کے بعد پناہ کی درخواستیں دیں، جس پر صارفین کے درمیان بحث چھڑ گئی۔ سیاست ڈاٹ پی کے فورمز پر صارفین نے تبصرہ کیا کہ کچھ وکلاء ایسے طلبہ کو برطانیہ میں قیام طویل کرنے کے لیے پناہ کی درخواست دینے کا مشورہ دیتے ہیں اور اس کے عوض بھاری فیس وصول کرتے ہیں۔ دیگر صارفین نے تعلیمی ایجنٹس اور مشاورتی اداروں پر بھی تنقید کی کہ وہ طلبہ کو مکمل اور درست رہنمائی فراہم نہیں کرتے، جس کے باعث درخواستیں تاخیر یا مسترد ہونے کا شکار ہوتی ہیں۔

طلبہ اور تعلیمی مشیروں کا مطالبہ

تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ UKVI میں جوابدہی کے فقدان نے طلبہ کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے — درخواست گزاروں سے استفسار پر فیس بھی وصول کی جاتی ہے مگر جواب کی کوئی یقینی مدت مقرر نہیں۔ ماہرین کا مطالبہ ہے کہ برطانوی حکام ویزا پروسیسنگ کے نظام میں شفافیت لائیں اور تاخیر کی صورت میں واضح ٹائم لائن فراہم کریں تاکہ طلبہ کا ایک اور تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

وزن میں کمی کے لیے روزانہ گولی کی منظوری

برطانیہ وزن کم کرنے اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج میں مدد دینے والی ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے