
ٹرانسپورٹرز مزید کرایوں میں اضافے کی راہ پر
وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی ردوبدل کر دیا ہے جس کے تحت ہائی سپیڈ ڈیزل مزید مہنگا جبکہ پٹرول قدرے سستا ہو گیا ہے۔ نئی قیمتیں آج، 13 اگست 2026 سے پورے ملک میں نافذ العمل ہوں گی۔
وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نئے پیٹرولیم پرائسنگ میکنزم کے تحت ایکس ڈپو قیمتوں پر نظرثانی کی ہے۔
نئی قیمتوں کی تفصیل (روپے فی لیٹر):
| پروڈکٹ | قیمت 12 اگست | نئی قیمت 13 اگست | فرق |
|---|---|---|---|
| ہائی سپیڈ ڈیزل (HSD) | 382.25 | 382.79 | 0.54 اضافہ |
| پٹرول (MS) | 325.92 | 324.98 | 0.94 کمی |
یعنی ایک طرف پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی سے موٹرسائیکل اور کار مالکان کو معمولی ریلیف ملا ہے، تو دوسری طرف ڈیزل کی قیمت میں اضافے نے ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعتی شعبے کے لیے تشویش بڑھا دی ہے، کیونکہ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، ٹرکوں، بسوں اور زرعی مشینری میں استعمال ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا اور مارکیٹ میں ردعمل
قیمتوں کے تازہ ترین روزانہ نظرثانی کے نظام پر سوشل میڈیا صارفین اور ٹرانسپورٹرز مسلسل تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں جب بھی ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہوا، ملک بھر میں پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں 5 سے 10 فیصد تک اضافہ کر دیا۔ لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹرز اور منی مزدا ایسوسی ایشن پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ اگر حکومت نے پالیسی پر نظرثانی نہ کی تو ٹرانسپورٹ کا نظام مفلوج ہو سکتا ہے۔ بلوچستان میں گڈز ٹرک مالکان کی تنظیم بھی سابقہ اضافوں پر بھاری کرایہ اضافے کا اعلان کر چکی ہے۔
آن لائن صارفین کی بڑی تعداد روزانہ کی بنیاد پر بدلتی قیمتوں کے نظام کو “غیر یقینی” اور “عام آدمی کے بجٹ کے لیے مشکل” قرار دے رہی ہے، جبکہ کچھ صارفین پٹرول میں معمولی کمی کو “آنکھوں میں دھول جھونکنے” کے مترادف قرار دے رہے ہیں کیونکہ ڈیزل، جو براہِ راست اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل سے جڑا ہے، مسلسل مہنگا ہو رہا ہے۔
ماہرین کی رائے
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں مسلسل اضافہ مہنگائی کے ایک نئے چکر کو جنم دے سکتا ہے، کیونکہ توانائی کی قیمتیں تقریباً ہر شعبے سے جڑی ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں تبدیلی کا نظام بین الاقوامی مارکیٹ کے ساتھ ہم آہنگی تو یقینی بناتا ہے، مگر اس سے کاروباری منصوبہ بندی اور عام صارف کے لیے غیر یقینی صورتحال بھی جنم لیتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت حکومت کے پاس سبسڈی دینے کی گنجائش محدود ہے، جس وجہ سے عالمی منڈی میں معمولی اتار چڑھاؤ کا اثر براہِ راست صارفین تک منتقل ہو رہا ہے۔
ٹرانسپورٹ سیکٹر کے نمائندوں کا مؤقف ہے کہ حکومتی سبسڈی موجودہ ایندھن لاگت کے مقابلے میں ناکافی ہے، اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو کرایوں اور بھاڑے میں مزید اضافہ ناگزیر ہو گا، جس کا براہِ راست بوجھ آخرکار عام صارف پر ہی پڑے گا۔
UrduLead UrduLead