جمعرات , اگست 13 2026

وزن میں کمی کے لیے روزانہ گولی کی منظوری

برطانیہ وزن کم کرنے اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج میں مدد دینے والی ایک نئی روزانہ استعمال ہونے والی گولی کی منظوری دے کر یورپ کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ برطانیہ کی میڈیسنز اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی (ایم ایچ آر اے) نے 10 اگست 2026 کو اعلان کیا کہ امریکی کمپنی ایلی للی کی تیار کردہ گولی “اورفورگلیپرون”، جو برطانیہ میں “فاؤنڈایو” کے برانڈ نام سے فروخت ہوگی، کو منظور کر لیا گیا ہے۔

ایم ایچ آر اے کے مطابق یہ گولی ان بالغ افراد کے لیے منظور کی گئی ہے جن کا باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) 30 یا اس سے زائد ہو، یا 27 سے 30 کے درمیان ہو بشرطیکہ وہ وزن سے جڑی کسی طبی پیچیدگی کا شکار ہوں۔ اس کے علاوہ یہ گولی ٹائپ 2 ذیابیطس کے ایسے مریضوں کے لیے بھی منظور کی گئی ہے جن کی بلڈ شوگر مناسب طریقے سے قابو میں نہیں آ رہی۔ ادارے کے مطابق گولی کو کم کیلوری والی غذا اور جسمانی سرگرمی میں اضافے کے ساتھ استعمال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

گولی کیسے کام کرتی ہے

اورفورگلیپرون ایک “جی ایل پی-1 ریسیپٹر ایگونسٹ” ہے، یعنی یہ جسم میں قدرتی طور پر پیدا ہونے والے ہارمون جی ایل پی-1 کی نقل کرتی ہے، جو کھانے کے بعد خارج ہوتا ہے۔ یہ دماغ کے بھوک پر قابو رکھنے والے حصوں پر اثر انداز ہوکر انسان کو دیر تک پیٹ بھرا محسوس کرواتی ہے اور بھوک و خواہشات میں کمی لاتی ہے۔ ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں یہ بلڈ شوگر کی سطح کو بھی کم کرتی ہے۔ یہ گولی روزانہ ایک بار، دن کے کسی بھی وقت، بغیر کسی خاص خوراک یا پانی کی پابندی کے لی جا سکتی ہے، جو اسے موجودہ انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی ادویات جیسے ویگووی اور مونجارو سے مختلف بناتی ہے۔ علاج کا آغاز 0.8 ملی گرام کی خوراک سے کیا جاتا ہے جسے بتدریج بڑھا کر 17.2 ملی گرام تک لے جایا جاتا ہے، ہر خوراک کم از کم ایک ماہ تک برقرار رکھی جاتی ہے۔ عام مضر اثرات میں متلی، قبض، اسہال، الٹی اور بدہضمی شامل ہیں۔

فوری طور پر این ایچ ایس پر دستیاب نہیں

اگرچہ گولی کو ایم ایچ آر اے کی منظوری مل چکی ہے، تاہم یہ فوری طور پر قومی صحت سروس (این ایچ ایس) کے ذریعے دستیاب نہیں ہوگی۔ ادارے کے مطابق این ایچ ایس میں اس کے استعمال کا فیصلہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلنس (نائس) کے جائزے کے بعد ہی کیا جائے گا، جس میں توقع ہے کہ نومبر 2026 تک سفارش سامنے آ سکتی ہے۔ فی الحال یہ گولی نجی طور پر تجویز کی جا سکے گی۔ یہ منظوری امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی جانب سے اپریل 2026 میں دی گئی منظوری کے بعد سامنے آئی، جبکہ اس سے قبل ایم ایچ آر اے نووو نورڈسک کی گولی کی صورت میں ویگووی کو بھی منظور کر چکی ہے۔

سوشل میڈیا اور صارفین کا ردعمل

نئی گولی کی منظوری کی خبر سامنے آتے ہی صحت اور طبی حلقوں میں زیر بحث آ گئی۔ آن لائن صارفین کی بڑی تعداد نے اسے ان افراد کے لیے خوش آئند پیش رفت قرار دیا جو انجیکشن سے گریز کرتے ہیں یا سوئی کا خوف رکھتے ہیں۔ برطانیہ میں تقریباً 60 فیصد سے زائد بالغ افراد موٹاپے یا زائد وزن کا شکار ہیں، جس کا سالانہ بوجھ این ایچ ایس پر تقریباً 107 ارب پاؤنڈ بنتا ہے — یہی وجہ ہے کہ صارفین کی بڑی تعداد نے اس گولی کو ممکنہ طور پر سستے اور آسانی سے قابلِ رسائی متبادل کے طور پر سراہا۔ تاہم کچھ صارفین نے اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا کہ جب تک نائس کی جانب سے این ایچ ایس پر منظوری نہیں ملتی، عام آدمی کی اس تک رسائی محدود ہی رہے گی۔

نیشنل فارمیسی ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو ہنری گریگ نے کہا کہ یہ منظوری خاص طور پر ان مریضوں کے لیے اہم ہے جو انجیکٹیبل دوا نہیں لینا چاہتے یا نہیں لے سکتے، اور اس سے وزن میں کمی کا علاج وسیع تر آبادی کے لیے قابلِ رسائی ہو سکتا ہے۔

ماہرین کی رائے

طبی ماہرین نے اس منظوری کو موٹاپے کے علاج کے میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ اینگلیا رسکن یونیورسٹی کے سینئر لیکچرار ڈاکٹر سائمن کارک کے مطابق یہ گولی وزن کے اعتبار سے نسبتاً کم بی ایم آئی رکھنے والے افراد کے لیے بھی منظور کی گئی ہے، یعنی مستقبل میں یہ زیادہ لوگوں کے لیے دستیاب ہو سکے گی، اور اس کی قیمت موجودہ ادویات کے مقابلے میں کم ہونے کا امکان ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی کی محقق ڈاکٹر ماری اسپریکلی کے مطابق یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ جی ایل پی-1 طرز کا علاج ایک روزانہ گولی کی صورت میں پیش کرتی ہے جسے بغیر کسی خوراک یا پانی کی پابندی کے لیا جا سکتا ہے، جو ان افراد کے لیے متبادل ہے جو انجیکشن استعمال نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے مطابق فیز 3 کے کلینیکل ٹرائلز کے شواہد حوصلہ افزا ہیں، جن میں 72 ہفتوں کے دوران بغیر ذیابیطس کے موٹاپے کے شکار بالغ افراد نے اپنے مجموعی جسمانی وزن کا 7.5 سے 11.2 فیصد تک کم کیا۔

ایلی للی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ اے رکس کا کہنا ہے کہ اس وقت جی ایل پی-1 سے فائدہ اٹھا سکنے والے دس میں سے ایک سے بھی کم افراد یہ علاج حاصل کر رہے ہیں، کیونکہ رسائی، سماجی بدنامی یا اپنی حالت کو سنجیدہ نہ سمجھنے جیسی رکاوٹیں حائل ہیں، اور ان کے بقول یہ روزانہ گولی اس فرق کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

ماہرین البتہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ گولی کے مضر اثرات، خاص طور پر زیادہ خوراک پر معدے سے متعلق شکایات کے باعث کچھ شرکاء نے ٹرائل کے دوران علاج ترک بھی کیا، اس لیے مریضوں کو ڈاکٹر کی نگرانی میں ہی یہ دوا استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ڈیزل مہنگا، پٹرول سستا — عوام کے لیے جھٹکا

ٹرانسپورٹرز مزید کرایوں میں اضافے کی راہ پر وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے