
گلاسگو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق مخصوص حالات میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا ریمیشن ممکن ہو سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف گلاسگو کی ایک تازہ تحقیق نے ٹائپ ٹو ذیابیطس سے متعلق برسوں سے قائم روایتی تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ مرض ہر مریض کے لیے عمر بھر لاحق رہنا ضروری نہیں، بلکہ مخصوص حالات میں اسے ریمیشن کی سطح تک واپس لایا جا سکتا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذیابیطس کی تیزی سے بڑھتی شرح اس تحقیق کو مزید اہم بناتی ہے، کیونکہ عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں اس مرض کا پھیلاؤ اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ریمیشن کا مطلب یہ ہے کہ مریض کے خون میں شوگر کی سطح کچھ عرصے تک بغیر فعال دوا یا سرجری کے نارمل حد میں رہے۔ اسے مکمل شفایابی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ بیماری کے بنیادی اسباب اکثر برقرار رہتے ہیں۔ تاہم ریمیشن اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ مریض کی شوگر قابلِ ذکر حد تک قابو میں آ گئی ہے اور کئی صورتوں میں ادویات ترک کرنا بھی ممکن ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کی بنیادی وجوہات میں انسولین کے خلاف مزاحمت اور لبلبے کے بیٹا خلیوں کی کمزور کارکردگی شامل ہیں۔ جب جگر اور لبلبے میں چربی جمع ہو جاتی ہے تو انسولین کی پیداوار اور فعالیت متاثر ہوتی ہے، جس سے شوگر کا نظام بگڑ جاتا ہے۔ وزن میں کمی اس اضافی چربی کو کم کر کے انسولین کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے اور بعض افراد میں مرض پلٹنے کی سطح تک واپس آ جاتا ہے۔
متعدد مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ نمایاں وزن میں کمی، خصوصاً موٹاپا کم کرنے والی سرجری کے بعد، بڑی تعداد میں مریضوں کی شوگر معمول پر آ گئی۔ اسی طرح انتہائی کم کیلوری والی غذائیں لینے والے افراد میں 10 سے 15 کلو وزن کم ہونے پر ریمیشن کے امکانات بڑھ گئے۔ کم کاربوہائیڈریٹ یا کم توانائی والی غذاؤں اور وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کی حکمتِ عملی نے بھی کچھ مریضوں میں ایک سال تک ریمیشن برقرار رکھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ طویل عرصے سے ذیابیطس کے شکار افراد میں ریمیشن کے امکانات کم ہوتے ہیں، مگر مناسب نگرانی اور طرزِ زندگی میں تبدیلی سے شوگر پر نمایاں قابو اب بھی ممکن ہے۔ تاہم ریمیشن مستقل نہیں، اور اگر وزن بڑھ جائے یا جسمانی سرگرمی کم ہو جائے تو مرض دوبارہ لوٹ سکتا ہے۔
تحقیق نے یہ واضح کیا ہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کا بوجھ کم کرنے کے لیے وزن، غذا اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ نتائج پالیسی سازی میں اہم رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
UrduLead UrduLead