
حکومت نے گیس سیکٹر کا تقریباً 1500 ارب روپے سرکلر ڈیٹ تین سال میں ختم کرنے کا منصوبہ بنا لیا، منظوری کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں، جبکہ بجٹ میں ادائیگی کے لیے رقم مختص کرنے کی تیاری بھی شروع کردی گئی ہے۔
حکومتِ پاکستان نے گیس سیکٹر کے تقریباً 1500 ارب روپے کے سرکلر ڈیٹ کو تین سال میں ختم کرنے کے لیے منصوبہ تیار کرلیا ہے اور اس پر عالمی مالیاتی فنڈ سے منظوری طلب کرلی گئی ہے، ذرائع کے مطابق یہ معاملہ سات ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کے تحت جاری تیسرے جائزے کے دوران مذاکرات میں زیر غور آیا۔
سرکاری حکام کے مطابق حکومت جون سے پہلے آئی ایم ایف کی منظوری حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں واجب الادا رقم کے تقریباً ایک تہائی حصے کی ادائیگی کے لیے فنڈز مختص کیے جاسکیں، کیونکہ پروگرام کے تحت توانائی شعبے کے قرضوں میں کمی بنیادی شرط سمجھی جارہی ہے۔
توانائی ڈویژن کے تخمینوں کے مطابق گیس سیکٹر کا مجموعی سرکلر ڈیٹ 3400 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے، جس میں تقریباً 1800 ارب روپے اصل واجبات جبکہ باقی رقم تاخیر سے ادائیگی کے سرچارجز، ٹیکس تنازعات اور عدالتی مقدمات کی صورت میں شامل ہے۔ مختلف رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں گیس سرکلر ڈیٹ 2025 کے دوران بڑھ کر تقریباً 3200 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا، جس کی بڑی وجہ ٹیرف میں تاخیر، سبسڈی اور ایل این جی کی مہنگی درآمدات بتائی جاتی ہیں۔
منصوبے کے تحت حکومت تقریباً 1500 ارب روپے کی ادائیگی کرے گی جبکہ بقیہ رقم کو ٹیکس ریفنڈز، لیٹ پیمنٹ سرچارجز اور بین الادارہ جاتی واجبات کی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے نمٹانے کی تجویز ہے، حکام کے مطابق تیل و گیس کمپنیوں کو ادائیگی اس شرط پر کی جائے گی کہ وہ تاخیر سے ادائیگی پر عائد تقریباً 1600 ارب روپے کے سرچارجز معاف کریں۔
پٹرولیم ڈویژن کی تجاویز میں پیٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر تقریباً 5 روپے اضافی لیوی عائد کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے، جس سے سالانہ اربوں روپے حاصل کیے جاسکتے ہیں، اس سے قبل بھی حکومت توانائی شعبے کے قرضے کم کرنے کے لیے لیوی میں اضافہ کرتی رہی ہے اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اس طریقہ کار کو قابل عمل قرار دیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سرکاری تیل و گیس کمپنیوں سے بھی خطیر رقم حاصل کرنا چاہتی ہے، جس میں او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ سے منافع اور اضافی منافع کی مد میں تقریباً 850 ارب روپے حاصل کرنے کی تجویز شامل ہے، جبکہ ایل این جی کی درآمدات میں بچت سے تقریباً 400 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
تاہم آئی ایم ایف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سرکاری کمپنیوں سے زیادہ منافع لینے سے ان کی مالی پوزیشن متاثر ہوسکتی ہے اور آئندہ تلاش و پیداوار کی سرمایہ کاری کم ہوسکتی ہے، ماہرین کے مطابق پاکستان کی تیل و گیس کمپنیاں پہلے ہی ادائیگیوں میں تاخیر اور واجبات کے دباؤ کا شکار رہی ہیں جس سے توانائی سپلائی چین میں نقدی کا بحران پیدا ہوتا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکلر ڈیٹ کی بنیادی وجوہات میں کم نرخوں پر گیس فروخت، بلوں کی کم وصولی، لائن لاسز اور درآمدی ایل این جی کی بلند قیمت شامل ہیں، پارلیمانی بریفنگز میں بتایا گیا تھا کہ صرف دونوں سوئی گیس کمپنیوں کے نقصانات اور عدم وصولی کی وجہ سے سالانہ اربوں روپے کا بوجھ پیدا ہوتا ہے جو بالآخر صارفین اور حکومت پر منتقل ہوجاتا ہے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں سرکلر ڈیٹ دوبارہ بڑھنے سے روکنے کے لیے گیس کی قیمتوں کا سالانہ جائزہ لیا جائے گا اور ٹیرف کو اصل لاگت کے مطابق رکھا جائے گا، کیونکہ ماضی میں قیمتوں میں تاخیر سے اضافے نے قرضوں کے انبار کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
توانائی شعبے میں اصلاحات آئی ایم ایف پروگرام کا مرکزی حصہ ہیں اور حکومت بجلی اور گیس دونوں شعبوں کے سرکلر ڈیٹ کو کم کرنے کے لیے مالیاتی، انتظامی اور ٹیرف اصلاحات پر کام کر رہی ہے، حکام کے مطابق اگر گیس سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کا منصوبہ منظور ہوگیا تو آئندہ بجٹ اور توانائی پالیسی میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں، جو پاکستان کے توانائی شعبے اور مالیاتی استحکام کے لیے اہم سمجھی جارہی ہیں۔
UrduLead UrduLead