جمعہ , مارچ 13 2026

اسٹاف لیول معاہدہ نہ ہو سکا، مذاکرات جاری

پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تیسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ نہ ہو سکا، تاہم دونوں فریقوں نے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے کیونکہ مالیاتی، مانیٹری اور توانائی شعبے کی اصلاحات پر مزید بات چیت درکار ہے۔

پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے درمیان 37 ماہ کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کے تیسرے جائزے پر بات چیت بغیر کسی حتمی معاہدے کے ختم ہوئی، تاہم فریقین نے کہا ہے کہ آئندہ چند روز میں مذاکرات جاری رکھے جائیں گے تاکہ باقی معاملات طے کئے جا سکیں۔ آئی ایم ایف مشن نے 25 فروری سے 11 مارچ 2026 تک کراچی، اسلام آباد اور ورچوئل اجلاسوں میں مذاکرات کئے، جن کی قیادت مشن چیف ایوا پیٹرووا نے کی۔

آئی ایم ایف کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پروگرام پر عملدرآمد فروری 2026 تک مجموعی طور پر حکومتی وعدوں کے مطابق رہا، تاہم آئندہ پالیسی اقدامات، مالیاتی خسارہ کم کرنے، سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے اور توانائی شعبے کی اصلاحات پر مزید تفصیلی جائزہ ضروری ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ عالمی معاشی صورتحال میں حالیہ تبدیلیوں، خصوصاً مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور توانائی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کو بھی مکمل طور پر جانچنا باقی ہے۔

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے تقریباً 7 ارب ڈالر کے 37 ماہ کے پروگرام کے تحت ہے جو 2024 میں منظور کیا گیا تھا تاکہ ادائیگیوں کے توازن کے بحران کے بعد معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ اس پروگرام کا مقصد زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، بجٹ خسارہ کم کرنا، ٹیکس نظام کو بہتر بنانا اور سرکاری اداروں میں اصلاحات لانا ہے۔ وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں بہتری آئی، تاہم بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے باعث دباؤ برقرار ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ جاری پروگرام کے ساتھ ساتھ پاکستان ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تحت بھی اصلاحات کر رہا ہے، جس کا مقصد ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے، آبی وسائل کے بہتر استعمال اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ فنڈ نے کہا کہ اس سہولت کے تحت کئی اصلاحاتی اقدامات مکمل کئے جا چکے ہیں، تاہم کچھ اقدامات پر مزید پیش رفت درکار ہے۔

مذاکرات کے دوران توانائی شعبے کے نقصانات، بجلی کی قیمتوں، گردشی قرضے اور ٹیکس وصولیوں کے اہداف پر تفصیلی بات چیت ہوئی کیونکہ آئی ایم ایف بار بار اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط کے بغیر معاشی استحکام برقرار نہیں رہ سکتا۔ اسٹیٹ بینک کی سخت مانیٹری پالیسی کو بھی پروگرام کا اہم حصہ قرار دیا گیا تاکہ مہنگائی کو ہدف کی حد میں رکھا جا سکے۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان کی معیشت میں کچھ استحکام دیکھا گیا ہے، مگر عالمی مالیاتی حالات سخت ہونے، تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خطے میں کشیدگی کے باعث بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ اگر درآمدی بل بڑھا تو جاری کھاتہ خسارہ دوبارہ بڑھ سکتا ہے، جس سے پروگرام کے اہداف متاثر ہو سکتے ہیں۔

پاکستان ماضی میں بھی متعدد بار آئی ایم ایف پروگراموں میں شامل ہوتا رہا ہے اور گزشتہ دو دہائیوں میں اربوں ڈالر کے قرض حاصل کر چکا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معیشت اب بھی بیرونی مالی معاونت پر انحصار کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ پروگرام کی کامیابی پاکستان کیلئے اس لئے اہم ہے کیونکہ اسی سے عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر شراکت داروں کی مالی مدد بھی مشروط ہے۔

آئی ایم ایف جائزہ مذاکرات کا نتیجہ آئندہ مہینوں میں پاکستان کی معاشی سمت کا تعین کرے گا کیونکہ حکومت استحکام برقرار رکھتے ہوئے اصلاحات جاری رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، اور ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کی پیش رفت بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

لاہور میں جے-10 سی طیاروں کی پروازیں

پاکستان ایئر فورس کے جدید جے-10 سی جنگی طیاروں کی کم بلندی پر پروازوں نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے