میڈیا میں برطرفیاں اور مالی بحران کا سلسلہ جاری

وفاقی حکومت نے 2022 سے دسمبر 2025 تک الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر اشتہارات کی مد میں 14.1 ارب روپے سے زائد خرچ کیے، تاہم اس بھاری سرکاری اشتہاری اخراجات کے باوجود ملک کے متعدد ٹی وی چینلز، اخبارات اور میڈیا ہاؤسز میں ملازمین کی برطرفیوں اور مالی بحران کا سلسلہ جاری ہے۔
قومی اسمبلی میں ارکان کے سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ مذکورہ عرصے کے دوران الیکٹرانک میڈیا کو 7.2 ارب روپے سے زائد، پرنٹ میڈیا کو 4.5 ارب روپے سے زیادہ جبکہ سوشل میڈیا مہمات پر 3.1 ارب روپے سے زائد خرچ کیے گئے۔ مجموعی طور پر حکومتی اشتہارات پر خرچ ہونے والی رقم 14.1 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔
وزیر اطلاعات کے مطابق یکم جولائی 2024 سے 31 مارچ 2026 تک صرف وزارت اطلاعات و نشریات نے اشتہارات پر 8.27 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جبکہ دیگر وفاقی وزارتوں نے اسی عرصے میں تقریباً 1.2 ارب روپے کے اشتہارات جاری کیے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں الیکٹرانک میڈیا کو تقریباً 5.2 ارب روپے کے اشتہارات دیے گئے، جبکہ پرنٹ میڈیا کو 1.3 ارب روپے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ایک ارب روپے سے زائد کی تشہیری مہمات فراہم کی گئیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومتی اشتہارات کا مقصد عوام کو سرکاری پالیسیوں، ترقیاتی منصوبوں، فلاحی پروگراموں اور قومی مفادات سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اشتہاری فنڈز کی تقسیم مالیاتی ضوابط، سالانہ آڈٹ اور پارلیمانی نگرانی کے تحت کی جاتی ہے۔
دوسری جانب میڈیا تنظیموں اور صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اربوں روپے کے سرکاری اشتہارات کے باوجود ملک کے مختلف ٹی وی چینلز، اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا اداروں میں مالی مشکلات برقرار ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران سینکڑوں صحافیوں، پروڈیوسرز، کیمرہ مینوں، تکنیکی عملے اور دیگر ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کیا جا چکا ہے جبکہ کئی اداروں میں تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اور مراعات میں کمی کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
میڈیا ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری اشتہارات کی مجموعی مالیت میں اضافے کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا یہ وسائل میڈیا انڈسٹری کے وسیع تر استحکام اور روزگار کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں یا نہیں۔ ان کے مطابق اشتہارات کی تقسیم کے طریقہ کار، شفافیت اور میڈیا اداروں تک مساوی رسائی پر بھی بحث جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں روایتی میڈیا کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، نجی اشتہارات میں کمی، بڑھتے آپریشنل اخراجات اور بدلتے کاروباری ماڈلز جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری اشتہارات میں اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود متعدد میڈیا ادارے مالی دباؤ اور افرادی قوت میں کمی کے مسائل سے دوچار ہیں۔
حالیہ اعداد و شمار نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ جب سرکاری اشتہارات پر اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں تو میڈیا انڈسٹری میں مسلسل چھانٹیوں، تنخواہوں کے بحران اور مالی مشکلات کا خاتمہ کیوں نہیں ہو پا رہا۔
UrduLead UrduLead